براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 345

روحانی خزائن جلد 1 ۳۴۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم } ہیں مگر پھر بھی حکیم مطلق نے ہر یک چیز میں جدا جدا خواص مودع کئے ہیں۔ (۲۹۶ کہ عقل کو کبھی یہ لیاقت حاصل نہیں ہوئی کہ بغیر اشتمال کسی دوسرے رفیق کے بذات خود کسی کا م کو بوجہ احسن و اکمل انجام دے سکے سچ کہو کیا ابھی تک تمہیں اس بات کا امتحان نہیں ہوا کہ جو کام صرف عقل پر پڑا وہی مشتبہ اور مظنون اور نا تمام رہا اور جب تک واقعات کا نقشہ بذریعہ کسی واقعہ دان کے طیار ہو کر نہ آیا تب تک تمام کام عقل اور قیاس کا ادھورا اور خام رہا تم انصاف سے کہو کیا تمہیں آج تک اس بات کی خبر نہیں کہ ہمیشہ سے عقلمند لوگوں کا یہی شعار ہے کہ وہ اپنی قیاسی وجوہ کو کبھی تجربہ سے تقویت دے لیتے ہیں اور کبھی تو اریخ سے اور کبھی نقشہ جات موقعہ نما سے اور کبھی خطوط اور مراسلات سے اور کبھی اپنی ہی قوت باصرہ اور سامعہ اور شامہ اور لامسہ وغیرہ کی گواہی سے پس اب تو تم آپ ہی سوچو اور اپنے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ دلوں میں آپ ہی خیال کرو اور اپنی نگاہوں میں آپ ہی جانچ لو کہ جس حالت میں دنیوی امور کے لئے کہ جو مشہود اور محسوس ہیں دوسرے رفیقوں کی حاجت پڑے تو پھر ان امور ۲۹۶) کے لئے کہ جو اس عالم سے وراء الوراء اور غیب الغیب اور اخفی من الاخفی ہیں کس قدر زیادہ حاجت ہے اور جس حالت میں مجرد عقل دنیا کے سہل اور آسان امور کے لئے بھی کافی نہیں تو پھر امور معاد کے دریافت کرنے میں کہ جو ادق اور الطف ہیں کیونکر کافی ہوسکتی ہے اور جبکہ تم معاشرت کے ناپائیدار اور نا چیز کاموں میں جن کا نفع نقصان ایک گزر جانے والی چیز ہے مجرد قیاس اور عقل کو قابل اطمینان نہیں سمجھتے تو پھر آپ لوگ امور معاد میں جن کے آثار دائمی اور جن کے خطرات لاعلاج ہیں فقط اسی عقل ناقص پر کیونکر بھروسہ کر کے بیٹھ رہے ہیں کیا یہ اس بات کا عمدہ ثبوت نہیں کہ آپ لوگوں نے آخرت کے فکر کو پس پشت ڈال رکھا ہے اور جیفہ دنیا بڑا لذیذ اور مزہ دار معلوم ہو رہا ہے کی آفت میں گرفتار ہے اور اسی اعراض کی وجہ سے محروم اور محجوب ہے یہی حقیقی علامت ہے جس سے انسان گزشتہ قصوں اور کہانیوں کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ خود طالب حق بن کر بچے ہادی اور حقیقی فیض رساں کو شناخت کر لیتا ہے اور اس نقدس اور نور کو کہ جو ﴿۲۹۲