براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 346
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۴۴ براہین احمدیہ حصہ 1 } ۲۹۷ بعض لوگ اس دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں کہ بولی انسان کی ایجاد ہے۔ اور نہ کیونکر اور کیا جائے کہ خدا نے اتنی بھی تمہیں سمجھ نہیں دی کہ جس حالت میں اس کریم مطلق نے دنیا کے نا پائیدار امور میں عقل انسانی کو تن تنہا نہیں چھوڑا بلکہ کئی رفیقوں سے تقویت بخشی ہے تو دار آخرت کے نازک اور دقیق مہمات میں جو باقی اور دائم ہیں اس کی رحمت عظیمہ کا ازلی اور ابدی خاصہ کیوں مفقود ہو گیا کہ اس جگہ عقل غریب اور سرگردان کو رفیق کامل کے اشتمال سے تقویت نہ بخشی اور ایسا مصاحب اس کو عنایت نہ کیا کہ جو اس ملک کے کلی اور جزئی امور سے ذاتی واقفیت رکھتا اور رویت کے گواہ کی طرح خبر دے سکتا تا قیاس اور تجر بہ دونوں مل کر انواع اقسام کی برکتوں کا چشمہ ٹھہرتے اور طالب حق کو اس مرتبہ کمال معرفت تک پہونچا سکتے جس کے حصول کا جوش اس کی فطرت میں ڈالا گیا ہے نہ معلوم آپ لوگوں کو کس نے بہکا دیا کہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ گویا عقل اور الہام میں کسی قدر با ہم تناقص ہے جس کے باعث وہ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے خدا تمہاری آنکھیں کھولے اور تمہارے دلوں کے پردے اٹھا دے کیا تم اس آسان بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس حالت میں الہام کی طفیل سے عقل اپنے کمال کو پہونچتی ہے ۲۹۷ 11 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ اپنی غلطیوں پر متنبہ ہوتی ہے اپنی راہ مقصود کی سمت خاص کو دریافت کر لیتی ہے آوارہ گردی اور سرگردانی سے چھوٹ جاتی ہے اور ناحق کی محنتوں اور بے ہودہ مشقتوں اور بے فائدہ جان کنی سے رہائی پاتی ہے اور اپنے مشتبہ اور مظنون علم کو یقینی اور قطعی کر لیتی ہے اور مجر دائکلوں سے آگے بڑھ کر واقعی وجود پر مطلع ہو جاتی ہے تسلی پکڑتی ہے آرام اور اطمینان پاتی ہے تو پھر اس صورت میں الہام اس کا محسن و مددگار اور مربی ہوا یا اس کا دشمن اور مخالف اور ضرر رسان ہوا۔ یہ کس قسم کا تعصب اور کس نوع کی نابینائی ہے کہ جو ایک بزرگ مربی کو جو صریح رہبری کامل اور فیض رساں ہی کی نسبت اعتقاد کیا گیا ہے نہ صرف اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے بلکہ اپنی استعداد کے موافق اس کا مزہ بھی چکھ لیتا ہے اور نجات کو نہ صرف خیالی طور پر ایک ایسا امر قرار دیتا ہے کہ جو قیامت میں ظاہر ہوگا بلکہ جہل اور ظلمت اور شک اور شبہ اور نفسانی جذبات کے عذاب سے نجات پا کر اور آسمانی نوروں سے منور ہوکر