براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 337
روحانی خزائن جلد 1 ۳۳۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم واحد لاشریک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر اس دلیل کو نہیں سوچا تھا تو کاش ﴿۲۸۹ ه حاشیه نمبرا | بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲ ایسے بڑے پیچیدہ نہیں بلکہ ایسے صاف اور واضح ہیں کہ گویا ہماری آنکھ کے سامنے اور نظر کے نیچے ہیں ۔ اور جو قتیں اس نا دیدہ عالم کے واقعات میں پیش آتی ہیں اور جس طرح غیر مرئی اور غیب الغیب جہان کے تصور کرنے کے وقت میں حیرتیں رونما ہوتی ہیں اور نظر اور فکر کے آگے ایک دریا ۲۸۹ نا پیدا کنار دکھلائی دیتا ہے۔ اس جگہ اس کا ہزارم حصہ بھی نہیں ۔ تو اس صورت میں اگر ہم صریحا و عمداً بے راہی اختیار نہ کریں تو بلا شبہ اس اقرار کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ ہمیں اس عالم کے حالات اور واقعات ٹھیک ٹھیک معلوم کرنے کے لئے اور ان پر یقین کامل لانے کی غرض سے دنیا کی نسبت صد با درجہ زیادہ مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کی حاجت ہے اور جبکہ اس عالم کا مؤرخ اور واقعہ نگار بجز خدا کی کلام کے کوئی اور نہیں ہو سکتا اور ہمارے یقین کا جہاز بغیر وجود واقعہ نگار کے تباہ ہوا جاتا ہے اور بادصرصر وساوس کی ایمان کی کشتی کو ورطہ ہلاکت میں ڈالتی جاتی ہے تو اس صورت میں کون عاقل ہے کہ جو صرف عقل ناقص کی رہبری پر بھروسہ کر کے ایسے کلام کی ضرورت سے منہ پھیرے جس پر اس کی جان کی سلامتی موقوف ہے اور جس کے مضامین صرف قیاسی انکلوں میں محدود نہیں بلکہ وہ عقلی دلائل کے علاوہ بہ حیثیت ایک مؤرخ صادق عالم ثانی کے واقعات صحیحہ کی خبر بھی دیتا ہے اور چشم دید ماجرا بیان کرتا ہے۔ از وحی خدا صبح صداقت بدمیده چشمی که ندید آن محفِ پاک چه دیده کاخ دل ما شد زهمان نافه معطر و آن یار بیامد که ز ما بود رمیده آن دیده که نوری نگرفت ست زفرقان حقا که ہمہ عمر ز کوری نہ رہیدہ آن دل که جز از وے گل و گلزار خدا جست سو گند توان خورد که بولیش نشمیده با خور ندهم نسبت آن نور که بینم صد خور که به پیراهن او حلقه کشیده بے دولت و بدبخت کسانیکه ازان نور تافته از نخوت و پیوند بریده اس سے آپ کی بڑی ناموری ہو جاوے گی ۔ اور جس میدان کے فتح کرنے سے حضرت مسیح (۲۸۹ قاصر رہے اور اپنی تعلیم ناقص کا آپ اقرار کر کے اس جہان سے سدھار گئے ۔ وہ میدان