براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 336

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم کرنے کے وقت اول یہی سوچتے کہ کیا خدا کا اپنی ذات اور صفات اور جمیع افعال میں وجود کو چاہتا ہے۔ بلکہ کسی طور سے اس کے واقعہ فی الخارج ہونے کا بھی پتہ مل جائے تا مجوزہ عقل صرف خیالات کے ورطہ میں ڈوبی نہ رہے اور جس امرکا موجود ہونا خیالی طور پر اس نے فرض کر لیا ہے اس امر کے وجود پر بطور واقعی مطلع بھی ہو جائے ۔ اور جبکہ استکمال یقین کا علم واقعہ پر موقوف ہوا اور ظاہر ہے کہ واقعات خارجیہ کی خبر دینا عقل کا کام اور منصب نہیں بلکہ یہ مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کا منصب ہے جنہوں نے بچشم خودان واقعات کو دیکھا ہو یا ان حالات کو کسی دیکھنے والے کی زبان سے سنا ہو۔ پس اس صورت میں عقل ناقص انسان کے لئے واقعہ نگاروں اور مؤرخوں اور آزمودہ کاروں کی ضرورت پڑی۔ یہی وجہ ہے کہ گو کسی امر میں لاکھ موشگافی کرو۔ مگر جو کچھ وقعت اور شان اس کی تجربہ یا تاریخ کے شمول سے کھلتی ہے۔ وہ بات مجرد قیاس سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی اور جس جگہ کسی شہادت رویت کی حاجت پڑتی ہے۔ اس جگہ قیاسی انکلیں کام نہیں دے سکتیں اور فقط قیاسی تیر چلانے والا اور صرف مونہہ سے باتیں بنانے والا ایک مؤرخ واقف حالات یا صاحب تجربہ اور آزمائش کا قائم مقام نہیں ہو سکتا ۔ اور اگر ہوسکتا تو پھر مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کی کچھ ضرورت نہ رہتی اور لوگ صرف اپنے قیاسوں سے دنیا کے متفرق حالات جن کا جانا تاریخ اور تجر بہ اور واقعہ دانی پر موقوف ہے معلوم کر لیتے اور سارا دھندا نظام عالم کا فقط قیاسی انکلوں سے چلا لیتے ۔ مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور اہل تجر بہ لوگوں کی تب ہی تو حاجت پڑی کہ جب اکیلی عقل اور مجرد قیاس سے کام چل نہ سکا اور صرف قیاس کی کشتی میں بیٹھنے سے دنیا کی سب مہمات ڈوبتی نظر آئی اور فقط عقل کے چرخ پر چڑھنے سے سارا کام اس عالم کا بر باد ہوتا دکھائی دیا حالانکہ دنیا کے معاملات کچھ کام چھوڑ چھاڑ کر یہی کام اختیار کریں اور قرآن شریف کے علوم الہیہ اور دقائق عقلیہ اور تاثیرات باطنیہ کا اپنی کتاب سے مقابلہ دکھلا کر روپیہ انعام کا وصول کریں۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” نظر آئیں ہونا چاہیے۔(ناشر)