براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 338

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم } 1 } (۲۹۰) اس دوسری دلیل کو ہی سوچا ہوتا کہ جس ذات کو علمی اور قدرتی طاقتوں میں سب سے زیادہ ہاں سچ بات ہے کہ عقل بھی بے سود اور بے فائدہ نہیں اور ہم نے کب کہا ہے کہ بے فائدہ ہے۔ مگر اس بدیہی صداقت کے ماننے سے ہم کس طرف بھاگ سکتے ہیں کہ مجرد عقل اور قیاس کے ذریعہ سے ہمیں وہ کامل یقین کا سرمایہ حاصل نہیں ہوسکتا کہ جو عقل اور الہام کے اشتمال سے حاصل ہوتا ہے ۔ اور نہ لغزشوں اور غلطیوں اور خطاؤں اور گمراہیوں اور خود پسندیوں اور خود بینیوں سے بچ سکتے ہیں اور نہ ہمارے خود تراشیدہ خیالات خدا کے پرزور اور پر جلال اور پر رعب حکم کی طرح جذبات نفسانی پر غالب آ سکتے ہیں اور نہ ہمارے طبع زاد تصورات اور خشک تخیلات اور بے اصل تو ہمات ہم کو وہ سرور اور خوشی اور تسلی اور تشفی پہنچا سکتے ہیں کہ جو محبوب حقیقی کا دلآویز کلام پہنچاتا ہے۔ تو پھر کیا ہم ایک اکیلی عقل کے پیرو ہو کر ان تمام نقصانوں اور زبانوں اور بد بختیوں اور بڑھیپیوں کو اپنے لئے قبول کر لیں اور ہزار ہا بلاؤں کا اپنے نفس پر دروازہ کھول دیں۔ عاقل انسان کسی طرح اس مہمل بات کو باور نہیں کر سکتا کہ جس نے کامل معرفت کی پیاس لگا دی ہے۔ ۲۹۰ ۲۹۰ بقیه حاشیه د اس نے پوری معرفت کا لبالب پیالہ دینے سے دریغ کیا ہے اور جس نے آپ ہی دلوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ اس نے حقیقی عرفان کے دروازے بند کر رکھے ہیں ۔ اور خداشناسی کے تمام مراتب کو صرف فرضی ضرورت پر خیال دوڑانے میں محدود کر دیا ہے ۔ کیا خدا نے انسان کو ایسا ہی بد بخت اور بے نصیب پیدا کیا ہے کہ جس کامل تسلی کو خدا شناسی کی راہ میں اس کی روح چاہتی ہے اور دل تڑپتا ہے۔ اور جس کے حصول کا جوش اس کی جان و جگر میں بھرا ہوا ہے۔ س کے حصول سے اس دنیا میں اس کو بکلی یاس اور نا امیدی ہے۔ کیا تم ہزار ہا لوگوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہیں کہ اس بات کو سمجھے کہ جو معرفت کے دروازے صرف خدا کے کھولنے سے کھلتے ہیں وہ انسانی قوتوں سے کھل نہیں سکتے ۔ اور جو خدا کا آپ کہنا ہے گویا آپ کے ہاتھ سے فتح ہو جائے گا۔ گویا ایک صورت سے آپ عیسائیوں کی نظر میں مسیح سے بہتر ٹھہر جاویں گے ۔ کہ جس کتاب کو وہ مدت العمر ناقص سمجھتے رہے ۔ آپ نے