براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 335
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۳ براہین احمد به سمجھ آنے سے رہ گئی۔ اگر ان میں ذرا عقل خداداد ہوتی تو اس بیہودہ اعتراض ﴿۲۸۸ عقل کو الہام الہی کی حاجت ہے۔ اور بغیر اس رفیق کے عقل کا کام علم دین میں چل نہیں سکتا جیسے دوسرے علوم میں بغیر دوسرے رفیقوں کے عقل بے دست و پا اور ناقص اور نا تمام ہے ۔ غرض معقل في حد ذاتہ مستقل طور پر کسی کام کو یقینی طور پر انجام نہیں دے سکتی جب تک کوئی دوسرار فیق اس کے ساتھ شامل نہ ہو۔ اور بغیر شمول رفیق کے ممکن نہیں کہ خطا اور غلطی سے محفوظ اور معصوم رہ سکے۔ بالخصوص علم الہی میں جس کے تمام ابحاث کی گنہ اور حقیقت اس عالم کی وراء الوراء ہے اور جس کا کوئی نمونہ اس دنیا میں موجود نہیں۔ ان امور میں عقل ناقص انسانی غلطی سے تو کیا بیچے گی ۔ کمال معرفت کے مرتبے تک بھی نہیں پہنچا سکتی ۔ اور غایت کار جو بذریعہ عقل دریافت کیا جاتا ہے۔ اس کا مضمون صرف اسی قدر ہوتا ہے کہ قیاس کنندہ اپنے گمان میں گو وہ گمان واقعی ہو یا غیر واقعی ۔ کسی امر کی ضرورت قرار دے لیتا ہے۔ مگر یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ وہ امر جو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ خارجی طور پر بھی متحقق الوجود ہے۔ اور اسی جہت سے علم اس کا ایک ایسی فرضی ضرورت پر مبنی ہونے کی وجہ سے جس کا خارجی طور پر اس کو کوئی پتہ نہیں ملا۔ ایک مجرد خیال بے بنیا د تصور ہوتا ہے اور یقین کامل کے درجہ سے اس کو بکھی پاس اور بے نصیبی حاصل ہوتی ہے اور ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ ہرگز ممکن ہی نہیں کہ محض فرضی ضرورتوں اور مجرد خیالات کی تو وہ بندی سے یقین کامل کا مرتبہ عقل کو حاصل ہو جائے ۔ بلکہ اس کامل یقین کے حاصل کرنے کے لئے تمام معاملات دنیا اور دین کے ایک ہی اصول محکم پر چلتے ہیں یعنے ہر یک امر خواہ دینی ہو خواہ دنیو کی اسی حالت میں ﴿۲۸۸ کامل یقین کے مرتبہ تک پہنچ سکتا ہے کہ جب علم حقائق اشیاء کا صرف قیاسی وجوہ میں محدود نہ رہے۔ اور وجہ ثبوت وجود کسی چیز کی فقط اتنی ہی اپنے ہاتھ میں نہ ہو کہ قیاس اس کے پایا جاتا ہے کہ آپ دنیا کی تکالیف میں سخت مبتلا ہیں اور آپ کو روپیہ کی اشد ضرورت ہے تو پھر اس صورت میں دنیا حاصل کرنے کی اس سے بہتر اور کیا تدبیر ہے کہ آپ سب ۲۸۸