براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 334

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۳۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۲۸۷ رونا آتا ہے جن کو ایسی مستحکم اور بدیہی صداقت کہ جو دلائل قاطعہ سے ثابت ہے ہر یک انسان کا نفس ناطقہ بمقتضائے اپنی فطرت کے چاہتا ہے یہی ہے کہ عقلی دلائل سے اس حقیقت کو کھولا جائے۔ جسے مشاعل سرقہ کے قبیح ہونے کے لئے حقیقی وجہ جس پر روحانی اطمینان موقوف ہے یہی ہے کہ وہ ایک ظلم اور تعدی ہے کہ عند العقل نا مناسب اور ناجائز ہے۔ یہ وجہ نہیں ہے کہ جو کسی الہامی کتاب نے اس کا مرتکب ہونا گناہ لکھا ہے ۔ یا مثلا سم الفار جو ایک زہر ہے۔ اس کے کھانے کی ممانعت حقیقی طور پر اسی بنا پر ہو سکتی ہے کہ وہ قاتل اور مہلک ہے۔ نہ کی پراسی بنا ہوسکتی اس بنا پر کہ خدا کے کلام میں اس کے اکل و شرب سے نہی وارد ہے۔ پس ثابت ہے کہ واقعی اور حقیقی سچائی کی رہنما صرف عقل ہے نہ الہام۔ لیکن ان حضرات کو ابھی تک یہ خبر بھی نہیں کہ اس و ہم کا تو اسی وقت قلع قمع ہو گیا کہ جب مضبوط اور قوی دلائل سے ان کی عقل کا خام اور نا تمام ہونا به پایہ ثبوت پہنچ گیا۔ کیا یہ عقلمندی ہے کہ جس وسوسہ کو دلائل قویہ کے پر زور لشکر نے پیں ڈالا ہے۔ اسی مردہ خیال کو بے شرم آدمی کی طرح بار بار پیش کیا جائے ۔ افسوس افسوس !! ارے بابا۔ کیا تم بارہ اس نہیں چلے کہ مو حقائق اشیاء عقلی دلائل سے کسی قدر منکشف ہوتے ہیں۔ مگر ایسا تو نہیں کہ تمام مراتب یقین کا استکمال عقل ہی پر موقوف ہے۔ آپ تو اپنی ہی مثال پیش کردہ سے ملزم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ سم الفار کا قاتل اور مہلک ہونا مجرد عقل کے ذریعہ سے یہ پایہ ثبوت نہیں پہنچا۔ بلکہ یقینی طور پر یہ خاصیت اس کی تب معلوم ہوئی جب عقل نے تجر بہ صحیحہ کو اپنار فیق بنا کر سم الفار کی خاصیت مخفیہ کو مشاہدہ کر لیا ہے۔ سو ہم بھی آپ کو یہی سمجھاتے ہیں کہ جیسی سم الفار کی خاصیت یقینی طور پر دریافت کرنے کے لئے عقل کو ایک دوسرے رفیق کی حاجت ہوئی یعنے تجربہ صحیحہ کی حاجت ایسا ہی الہیات اور عالم معاد کے حقائق علی وجہ الیقین دریافت کرنے کے لئے ایسا اور ۲۸۷ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۲۸۷ براہین اور برکات فرقانیہ کا مقابلہ کر کے کہ جو براہین احمدیہ میں اسی غرض کے لئے مندرج ہیں اشتہار کا کل روپیہ لے سکتے ہیں۔ بالخصوص جب آپ کی تقریر کے ضمن میں یہ بھی