براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 291
روحانی خزائن جلد 1 ۲۸۹ براہین احمدیہ حصہ سوم اسلام کو کہ جو عربی کی املاء انشاء میں کامل دستگاہ رکھتا ہو۔ حاکم با اختیار کی طرف سے روشن ہوگئی۔ اور جو اخلاق ، کرم اور جود و سخاوت اور ایثار اور قوت اور شجاعت اور زہد اور قناعت اور اعراض عن الدنیا کے متعلق تھے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ مسیح کیا بلکہ دنیا میں آنحضرت سے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہو گئے ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دیئے۔ سو آنجناب نے ان سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوا۔ نہ کوئی عمارت بنائی ، نہ کوئی بارگاہ طیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کو ٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی۔ بند کر کے اور آنکھوں پر پردہ ڈال کے بیٹھا ہوا ہے۔ وہ ایسا ہی روشنی کو پاوے جیسا وہ شخص جس کے سب دروازے کھلے ہیں اور جس کی آنکھوں پر کوئی پردہ نہیں۔ کیا اٹمی اور بصیر کبھی مساوی ہو سکتے ہیں۔ کیا ظلمت نور کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ کیا ممکن ہے کہ مجذوم جس کا تمام بدن جذام خوردہ ہے اور جس کے اعضاء متعفن ہو کر گرتے جاتے ہیں۔ وہ اپنی بدنی حالت میں اس جماعت سے برابری کر سکے جس کو خدا نے کامل تندرستی اور خوبصورتی عطا فرمائی ہے۔ ہم ہر وقت طالب صادق کو اس بات کا ثبوت دینے کے لئے موجود ہیں کہ وہ روحانی اور حقیقی اور سچی برکتیں کہ جو تابعین حضرت خیر الرسل میں پائی جاتی ہیں کسی دوسرے فرقہ میں ہرگز موجود نہیں۔ جب ہم عیسائیوں اور آریوں اور دوسری غیر قوموں کی ظلمانی اور محجوب حالت پر نظر کرتے ہیں اور ان کے تمام پنڈتوں اور جوگیوں اور راہبوں اور پادریوں اور مشنریوں کو آسمانی نوروں سے بکلی محروم اور بے نصیب پاتے ہیں۔ اور اس طرف اُمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں آسمانی نوروں اور روحانی برکتوں کا ایک دریا بہتا ہوا دیکھتے ہیں اور انوار الہیہ کو بارش کی طرح برستے ہوئے مشاہدہ کرتے ہیں۔ تو پھر جس ماجرا کو ہم چشم خود دیکھ رہے ہیں اور جس کی شہادتیں ہماری تار اور پود اور رگ اور ریشہ میں بھری ہوئی ہیں اور جس پر ہمارا ایک ایک قطرہ خون کا گواہ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا