براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 292
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۹۰ براہین احمدیہ حصہ سوم یہ پر تہدید حکم سنایا جائے کہ اگر تم مثلاً بیس برس کے عرصے میں کہ گویا ایک عمر کی اپنی ساری عمر بسر کی ۔ بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دلآ زار تھے ان کو ان کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔ سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا۔ اور کھانے کے لئے نانِ جو یا فاقہ اختیار کیا۔ دنیا کی دولتیں بکثرت ان کو دی گئیں پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا۔ اور ہمیشہ فقر کوتو نگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا۔ اور اس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے ۔ بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔ اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا۔ خالصاً خدا کے لئے کھڑے ہو کر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی ۔ غرض نجود اور سخاوت رویت ہے کیونکر اس سے منکر ہو جائیں ۔ کیا ہم امر معلوم کو نا معلوم فرض کر لیں یا مرتی اور مشہود کو غیر مرئی اور غیر مشہود قرار دے دیں کیا کریں۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں اور سچ کہنے سے کسی حالت میں رک نہیں سکتے کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے نہ ہوتے اور قرآن شریف جس کی تا شیریں ہمارے ائمہ اور اکا بر قدیم سے دیکھتے آئے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں، نازل نہ ہوا ہوتا۔ تو ہمارے لئے یہ امر بڑا ہی مشکل ہوتا ۔ کہ جو ہم فقط بائبل کے دیکھنے سے یقینی طور پر شناخت کر سکتے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور دوسرے گزشتہ نبی فی الحقیقت اسی پاک اور مقدس جماعت میں سے ہیں جن کو خدا نے اپنے لطف خاص سے اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے۔ یہ ہم کو فرقان مجید کا احسان ماننا چاہئے جس نے اپنی روشنی ہر زمانہ میں آپ دکھلائی اور پھر اس کامل روشنی سے گزشتہ نبیوں کی صداقتیں بھی ہم پر ظاہر کر دیں۔ اور یہ احسان نہ فقط ہم پر بلکہ آدم سے لے کر مسیح تک ان تمام نبیوں پر ہے کہ جو قرآن شریف سے پہلے گزر چکے۔ اور ہر یک رسول اس عالی جناب کا ممنون منت ہے جس کو خدا نے وہ کامل اور مقدس کتاب عنایت کی جس کی کامل تا شیروں کی برکت سے سب صداقتیں ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں۔ جن سے ان نبیوں کی نبوت پر یقین کرنے کے لئے ایک راستہ کھلتا ہے اور ان کی نبوتیں شکوک اور شبہات سے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ا