براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 283

روحانی خزائن جلد 1 ۲۸۱ براہین احمدیہ حصہ سوم یہ بحث محض طلب حق کی غرض سے کرتے ہیں اور اپنا پورا پورا جواب پانے سے ۲۵۴۶ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر شہرہ آفاق ہوتی جس سے وہ ایسے ارجمند ٹھہرے جن کا کوئی مانند نہیں اور ایسے لگا نہ ٹھہرے جن کا کوئی ہم جنس نہیں اور ایسے فرد الفرد ٹھہرے جن کا کوئی ثانی نہیں اور ایسے غیب الغیب ٹھہرے جن تک کسی ادراک کی رسائی نہیں اور ایسے کامل اور بہادر ٹھہر سے کہ گویا ہزار ہا شیر ایک قالب ۲۵۴ میں ہیں اور ہزار ہا پلنگ ایک بدن میں جن کی قوت اور طاقت سب کی نظروں سے اور بہا محبت تھے کہ جیسے دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں اور جیسے قدیم سے دور رفیق اور دلی دوست ہوتے ہیں اور بعد اس کے اُسی مکان میں جہاں اب یہ عاجز اس حاشیہ کو لکھ رہا ہے۔ میں اور مسیح اور ایک اور کامل اور مکمل سید آل رسول دالان میں خوشدلی سے ایک عرصے تک کھڑے رہے اور سید صاحب کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ اس میں بعض افراد خاصہ امت محمدیہ کے نام لکھے ہوئے تھے اور حضرت خداوند تعالیٰ کی طرف سے ان کی کچھ تعریفیں لکھی ہوئی تھیں ۔ چنانچہ سید صاحب نے اس کا غذ کو پڑھنا شروع کیا جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ مسیح کو امت محمدیہ کے ان مراتب سے اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ جو عند اللہ ان کے لئے مقرر ہیں اور اس کاغذ میں عبارت تعریفی تمام ایسی تھی کہ جو خالص خدائے تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ سو جب پڑھتے پڑھتے وہ کاغذا خیر تک پہنچ گیا اور کچھ تھوڑا ہی باقی رہا۔ تب اس عاجز کا نام آیا۔ جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عبارت تعریفی عربی زبان میں لکھی ہوئی تھی هو منی بمنزلة توحیدی و تفریدی فکاد ان يعرف بين الناس یعنے وہ مجھ سے ایسا ہے جیسے میری تو حید اور تفرید ۔ سو عنقریب لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔ یا خیر فقره فكاد ان يعرف بين الناس اى وقت بطور الہام بھی القا ہوا۔ چونکہ مجھ کو اس روحانی علم کی اشاعت کا ابتداء سے شوق ہے۔ اس لئے یہ خواب اور یہ القا بھی کئی مسلمانوں اور کئی ہندوؤں کو جواب تک قادیان میں موجود ہیں اسی وقت بتلایا گیا۔ اب (۲۵۴ دیکھئے کہ یہ خواب اور یہ الہام بھی کس قدر عظیم الشان اور انسانی طاقتوں سے باہر ہے ۔ اور گو ابھی تک یہ پیشگوئی کامل طور پر پوری نہیں ہوئی۔ مگر اس کا اپنے وقت پر پورا ہونا بھی انتظار کرنا چاہئے ۔ کیونکہ خدا کے وعدوں میں ممکن نہیں کہ تختلف ہو۔ اور اس جگہ یاد رہے کہ اگر چہ کبھی کبھی ایسے لوگ بھی کہ جو