براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 282
روحانی خزائن جلد ۱ ۲۸۰ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۵۳) محرک اس بحث کے ہوں۔ وہ اول صدق اور صفائی سے کسی اخبار میں شائع کرادیں کہ اگر خدا ان پر یہ مصیبتیں نازل نہ کرتا تو یہ نعمتیں بھی ان کو حاصل نہ ہوتیں اور نہ عوام پر ان خدا پر یہ تو بھی پر ۲۵۳ نمبراا بقيه حاشیه در حاشیه کے شائل حسنہ کما حقہ کھلتے بلکہ دوسرے لوگوں کی طرح اور انکے مساوی ٹھہرتے ۔ اور گواپنی چند روز و عمر کو کیسے ہی عشرت اور راحت میں بسر کرتے پر آخر ایک دن اس دار فانی سے گزر جاتے اور اس صورت میں نہ وہ عیش اور عشرت ان کی باقی رہتی نہ آخرت کے درجات عالیہ حاصل ہوتے نہ دنیا میں ان کی وہ فتوت اور جوانمردی اور وفاداری اور شجاعت حالت میں ان کو پیش آئیں اور گورنمنٹ کا منشاء بھی کچھ بر خلاف سمجھا جاتا تھا۔ انہیں دنوں میں ان کے بری ہونے کی خبر ہم کو خواب میں ملی اور خواب میں میں نے ان کو کہا کہ تم کچھ خوف مت کرو خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے وہ تمہیں نجات دے گا۔ چنانچہ یہ خبر انہیں دنوں میں بیسیوں ہندوؤں اور آریوں اور مسلمانوں کو سنائی گئی ۔ جس نے سنا بعید از قیاس سمجھا اور بعض نے ایک امر محال خیال کیا اور میں نے سنا ہے کہ انہیں ایام میں محمد حیات خان صاحب کو بھی یہ خبر کسی نے لاہور میں پہنچادی تھی۔ سوالحمد للہ والمیہ کہ یہ بشارت بھی جیسی دیکھی تھی ویسی ہی پوری ہوئی۔ اب اس خواب کے گواہ بھی ساٹھ ستر سے کچھ کم نہ ہوں گے ۔ اور اگر اس میں مسلمانوں کی شہادت قابل اعتماد نہ ہو اور نہ محمد حیات خان صاحب کی تو آپ کو یادر ہے کہ اس میں قریب دس بارہ آدمی کے ہندو اور آریہ سماج کے ممبر بھی ہیں کہ جو دید کی لکیر پر چلنے والے اور مسلمانوں کے سخت مخالف ہیں ۔ سردار محمد حیات خان صاحب سے نہ ہماری خط و کتابت اور نہ کچھ میل و ملاقات نہ کچھ ایسا تعلق و تعارف ہے۔ ہم حیران تھے کہ ان کی آخری حالت ان کی سخت بے قراری کے دنوں میں کیوں خدا نے ہم پر ظاہر کی۔ سو آج اس کا سبب ظاہر ہوا کہ یہ کشف بھی اس لئے ہوا کہ تا آج دینی کام میں جس میں خدا نے ہمیں لگایا ہوا ہے ۔ کام آوے۔ والحمد لله ثم الحمد لله۔ اب ایک چوتھی رویا بھی آپ کی تسلی کامل کے لئے بیان کرتا ہوں ۔ تخمینا دس برس کا عرصہ ہوا ہے جو میں نے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا اور مسیح نے اور میں نے ایک جگہ ایک ہی برتن میں کھانا کھایا اور کھانے میں ہم دونوں ایسے بے تکلف