براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 284

روحانی خزائن جلد ۱ ۲۸۲ براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۵۵ مسلمان ہونے پر مستعد ہیں۔ کیونکہ جس کی نیت میں حق کی طلب نہیں اور دل میں ۲۵۵ 11 بقيه حاشیه در حاشیه نمبر ا بلند تر ہوگئی اور جو تقریب کے اعلیٰ درجات تک پہنچ گئی ۔ ۔ اور دوسرا حصہ انبیاء اور اولیاء کی عمر کا فتح میں ، اقبال میں، دولت میں بمرتبہ کمال ہوتا ہے تا وہ اخلاق ان کے ظاہر ہو جائیں کہ جن کے ظہور کے لئے فتح مند ہونا ، صاحب اقبال ہونا ، صاحب دولت ہونا ، صاحب اختیار ہونا ، صاحب اقتدار ہونا ، صاحب طاقت ہونا ضروری ہے ۔ کیونکہ اپنے دکھ دینے والوں کے گناہ بخشنا اور اپنے ستانے والوں سے درگزر کرنا اور اپنے دشمنوں سے پیار کرنا اور اپنے بداندیشوں کی خیر خواہی بجا لانا۔ مذہب اسلام سے خارج ہیں۔ کوئی کوئی بچی خواب دیکھ لیتے ہیں۔ مگر ان میں اور مسلمانوں کی خوابوں میں کہ جو خدا کے رسول مقبول کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں۔ کئی طور سے صریح فرق ہے۔ مجملہ ان فرقوں کے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کو کچی خوا ہیں کثرت سے آتی ہیں جیسا ان کی نسبت خدائے تعالی نے آپ وعدہ دے رکھا ہے اور فرمایا لَهُمُ الْبُشْرى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا۔ لیکن كفار اور منکرین اسلام کو اس کثرت سے کچی خواہیں ہرگز نصیب نہیں ہوتیں بلکہ ان کا ہزارم حصہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس کا ثبوت ہماری ان ہزار ہا کچی خوابوں کے ثبوت سے ہوسکتا ہے جن کو ہم نے قبل از وقوع صد ہا مسلمانوں اور ہندوؤں کو بتلا دیا ہے اور جن کے مقابلہ سے غیر قوموں کا عاجز ہونا ہم ابتدا سے دعویٰ کر رہے ہیں۔ اور ایک یہ فرق ہے کہ مسلمان کی خواب اکثر اوقات نہایت عالی شان اور مہمات عظیمہ کی بشارت اور خوشخبری پر مشتمل ہوتی ہے اور کافر کی خواب اکثر اوقات امور حسیہ میں اور بیچی اور بے قدر ہوتی ہے اور ذلت اور ناکامی کے مکر وہ آثار اس میں نمودار ہوتے ہیں۔ اور اس کے ثبوت کے لئے بھی ہماری ہی خوابوں پر یہ نظر انصاف غور کرنا کافی ہے۔ اور اگر کوئی منکر ہو تو ایسی عالی شان خواہیں کسی غیر مذہب کی ہمارے سامنے پیش کر کے اور ثابت کر کے دکھلاوے۔ اور ایک فرق یہ ہے کہ مسلمان کی خواب نہایت راست اور منکشف ہوتی ۔ یونس : ۶۵ ہے۔