براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 164

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۶۲ براہین احمدیہ حصہ سوم یہ رائے ہے کہ کلام الہی کا بے نظیر ہونا ضروری نہیں یا اس کے بے نظیر ہونے سے اس کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اس جگہ بغرض اتمام ہمیں راستہ میں چھوڑ کر آگے چلنے سے انکار کرتی ہے۔ کیا مرتبہ اعلیٰ ہماری معرفت اور خداشناسی کا یہی ہے کہ ہم صرف اتنے پر ہی کفایت کریں کہ کوئی بنانے والا چاہیئے ۔ کیا ایسے انکل پیچو خیال سے ہم اس خوشحالی دائگی کے وارث ہو سکتے ہیں کہ جو کامل الیقین اور کامل المعرفت لوگوں کے لئے طیار کی گئی ہے جس یقین کامل کے لئے ہماری روح تڑپتی ہے۔ اگر وہ صرف عقل سے ہم کو مل جاتا تو پھر یہ قول بھی ہمارا بجا ہوتا کہ اب ہمیں الہام کی کچھ حاجت نہیں، اپنے مطلب کو پہنچ جو گئے ۔ لیکن - جب ہم بیمار ہو کر پھر بھی علاج کے متلاشی نہ ہوں اور صحت کامل کے وسائل طلب نہ کریں تو یہ ہماری بد بختی کی نشانی ہے۔ اے در انکار مانده از الهام کرد عقل تو عقل را بدنام بخویش آوردی این چه آئین و کیش آوردی از خدا رو تانہ کس سر ز خویشتن تابد راز توحید را سان یابد بر فرق نفس پا بزنی تا نہ به پاک و پلید فرق کنی کے که شد تابع کلام خدا رست از اتباع حرص و ہوا از خود و نفس خود خلاص شده مهبط فیض نور خاص شده ہر し برتر از رنگ این جهان گشته آنچه ناید بوهم آن گشته اسیران نفس اماره بے خدائیم سخت ناکارہ تا میاں بست وحی حق بر شاد اے بسا عقد ہائے ما کہ کشاد نه شود از تو کار ربانی آسیائے تہی چه گردانی تو و علم تو ما و علم خدا فرق بین از کجاست تا یکجا آن یکی را نگار خویش آن یکے ہمنشین دیگری چشم انتظار به بر روئے ور به دیگرے ہر زہ گرد در کوئے ۱۵۷ ۱۵۶