براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 163

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۶۱ براہین احمدیہ حصہ سوم بے نظیری ان کی منجانب اللہ ہونے پر دلیل قاطع ہونا ان کی صادر من اللہ ہونے کے لئے شرط ضروری ہے ۔ تو اس تحقیق سے جھوٹ اُن لوگوں کا صاف کھل گیا جن کی (۱۵۶) د نمبراا ہیں وہ اس جگہ دور کئے جاویں۔ لہذا معہ الجواب ذیل میں لکھے جاتے ہیں:۔ وسوسہ اول۔ یہ بحث کہ کوئی کتاب الہامی انسانی طاقتوں سے باہر ہے۔ اصل بحث الہام کی ایک فرع ہے اور الہام کی نسبت یہ ثابت ہے کہ وہ عند العقل ضروری نہیں اور جب الہام کی کچھ ضرورت نہیں تو پھر یہ بحث کرنا ہی بے فائدہ ہے کہ کسی کتاب کی نظیر بنانے سے قوی بشریہ عاجز ہیں یا نہیں۔ جواب۔ اس کا جواب ابھی گزر چکا ہے کہ بذریعہ قیاسات عقلیہ کے جو کچھ خدا اور امور آخرت کے بارے میں سوچا جاتا اور فکر کیا جاتا ہے اُس سے نہ یقین کامل حاصل ہوتا ہے نہ معرفت کامل ۔ اور جو جو وساوس قیاس پرستوں کے جی میں کھٹکتے رہتے ہیں ان کا تدارک بجز الہام کے ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ اگر نیچر سے اس قدر سمجھا بھی گیا کہ عالم کا ایک صانع ضرور چاہیے لیکن اس کا بیان کرنے والا کون ہے کہ وہ صانع ہے بھی۔ ہاں یہ بیچ ہے کہ عمارت کو دیکھ کر معمار پر یقین آ سکتا ہے۔ پر وہ یقین عادی طور پر ہم کو حاصل ہے کیونکہ جیسے ہم عمارتوں کو دیکھتے ہیں ساتھ ہی معماروں کو بھی دیکھتے ہیں لیکن زمین آسمان بنانے والے کو کون دکھا دے۔ اس کا تو تب ہی پورا پورا یقین آوے کہ جب معماروں کی طرح اس کا بھی کچھ پتہ لگے ۔ اگر عقل نے گواہی بھی دی کہ کوئی اس عالم کا بنانے والا چاہیے تو وہی عقل پھر آپ ہی حیرت کے دریا میں ڈوبے گی کہ اگر یہ خیال سچا ہے تو پھر اس صانع کا آج تک کوئی پتہ بھی تو لگا ہوتا۔ پس اگر عقل نے صانع کے وجود کی طرف کسی قدر رہبری کی تو پھر دیکھنا چاہیے کہ رہزن بھی تو وہی عقل ہوئی۔ کسی کود ہر یہ بنایا۔ کسی کو طبعیہ کوئی کسی طرف جھکا اور کوئی کسی طرف۔ بھلا فقد عقلی خیال سے کہ جس کی تصدیق کبھی نہیں ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہوگی یقین کیونکر آوے۔ اگر عقل نے قیاس بھی دوڑایا کہ بنانے والا ضرور چاہیے تو اب کون ہے کہ ہمیں پوری پوری تسلی دے کہ اس قیاس میں کچھ دھوکا نہیں اور اس سے زیادہ اگر ہم غور بھی کریں تو کیا کریں۔ اگر عقل سے ہی پورا پورا کام نکلتا ہے۔ تو پھر کیوں عقل