براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 160
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۸ براہین احمدیہ حصہ سوم ه نمبر کہ اگر یہ جائز ہوتا کہ جو چیز میں خدا کے دست قدرت سے ظہور پذیر ہیں اُن کے بنانے پر کوئی دوسرا شخص بھی قادر ہوسکتا تو کسی مصنوع کو اس خالق حقیقی کے وجود پر دلالت بے مثل و مانند ہو اور نیز اُس میں منجانب اللہ ہونے کے بارے میں اور ہر ایک امر دینی کے لئے تحریری شہادت بھی موجود ہو ۔ تو یہ تمام صفات صرف کتاب الہامی میں جو بے مثل و مانند ہو جمع ہوں گی اور کسی چیز میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ یہ خوبی صرف کتاب الہامی میں متحقق ہوسکتی ہے۔ کہ اپنے بیان اور اپنی بے نظیری کی حالت کے ذریعہ سے یقین کامل اور معرفت کامل کے مرتبہ تک پہنچا ہے۔ وجہ یہ کہ آسمان وزمین کے وجود پر اگر کوئی کم بخت و ہر یہ شک کرے تو کرے کہ یہ قدیم سے چلے آتے ہیں۔ پر ایک کلام کو انسانی طاقتوں سے بالا تر تسلیم کر کے پھر انسان اس اقرار کرنے سے کہاں بھاگ سکتا ہے کہ خدا فی الواقع موجود ہے جس نے اس کتاب کو نازل کیا۔ علاوہ اس کے اس جگہ خدا کا وجود ماننا صرف اپنا ہی قیاس نہیں بلکہ وہی کتاب بطور خبر واقعہ کے یہ بھی بتلاتی ہے کہ خدا موجود ہے اور جزا سزا بر حق ہے۔ پس جس یقین کامل کو طالب حق زمین و آسمان میں تلاش کرتا ہے اور نہیں پاتا وہ مراد اس کو اس جگہ مل جاتی ہے۔ لہذا دہر یہ کو خدا کے قائل کرنے کے لئے جیسا کلام بے مثل سے علاج متصور ہے ویسا زمین آسمان کے ملاحظہ سے ہرگز ممکن نہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر ایک انسان میں کہ جو مجرد قیاس پرست ہے دہر یہ پن کی ایک رگ ہے۔ وہی رگ دہریہ میں کچھ زیادہ پھول کر ظاہر ہو جاتی ہے اور اوروں میں مخفی رہتی ہے۔ اس رگ کو وہی الہامی کتاب کاٹتی ہے جو فی الواقع انسانی طاقتوں سے باہر ہو۔ کیونکہ جیسا ہم نے اوپر بیان کیا ہے ۔ آسمان زمین سے نتیجہ نکالنے میں ہمیشہ لوگوں کی سمجھ مختلف رہی ہے۔ کسی نے یوں سمجھا اور کسی نے ووں سمجھا ۔ لیکن یہ اختلاف کلام بے مثل میں نہیں ہوسکتا ۔ اور کو کوئی دہر یہ ہی ہو۔ یہ کلام بے مثل کی نسبت یہ رائے ظاہر نہیں کر سکتا کہ وہ بغیر تکلم کسی متکلم کے زمین آسمان کی طرح خود بخو د قدیم سے وجود رکھتی ہے۔ بلکہ کلام بے مثل میں اسی وقت تک دہریہ بحث و تکرار کرے گا جب تک اس کے بے مثل ہونے میں اس کو کلام ہے اور جب ہی اس نے اس بات کو قبول کر لیا کہ فی الواقعہ بنانا اس کا انسانی طاقتوں سے باہر