براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 161
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۹ براہین احمدیہ حصہ سوم کامل نہ رہتی اور امر معرفت صانع عالم کا بالکل مشتبہ ہو جاتا ۔ کیونکہ جب بعض ان اشیاء (۱۵۴) کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہیں بجز خدا کے کوئی اور بھی بنا سکتا ہے تو پھر ہے۔ اس وقت سے خدا کے ماننے کے لئے اس کے دل میں ایک منظم بود یا جاوے گا۔ کیونکہ اس وہم کے کرنے کی اس کو گنجائش ہی نہیں کہ اس کلام کے متکلم کا وجود قیاسی ہے نہ واقعی ۔ اس جہت سے کہ کلام کا وجود بغیر وجود متکلم کے ہو ہی نہیں سکتا۔ ماسوا اس کے کلام بے مثل میں یہ بھی خوبی ہے کہ جو کچھ علم مبدء اور معاد کا تحمیل نفس کے لئے ضروری ہے۔ وہ سب بطور امر واقعہ کے اس میں لکھا ہوا موجود ہے۔ اور ی خوبی بھی زمین آسمان میں موجود نہیں۔ کیونکہ اول تو ان کے ملاحظہ سے اسرار دینیہ کچھ معلوم ہی نہیں ہوتے۔ اور اگر کچھ ہوں بھی تو اکثر اوقات وہی مثل مشہور ہے کہ گونگے کے اشارے اس کی ماں ہی سمجھے ۔ اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہو گیا کہ بے مثل ہونا کلام الہی کا صرف اسی جہت سے واجب نہیں کہ استحفا ظ سلسلہ قانون قدرت کا اس پر موقوف ہے۔ بلکہ اس جہت سے بھی واجب ہے کہ بغیر بے مثل کلام کے نجات کا امر ہی ادھورا رہتا ہے۔ کیونکہ جب خدا پر ہی یقین کامل نہ ہوا تو پھر نجات کیسی اور کہاں سے۔ جو لوگ خدا کی کلام کا بے مثل و مانند ہونا ضروری نہیں سمجھتے ۔ ان کی کیسی نادانی ہے کہ حکیم مطلق پر بد گمانی کرتے ہیں کہ ہر چند اس نے کتابیں بھیجیں پر بات وہی بنی بنائی رہی جو پہلے تھی۔ اور وہ کام نہ کیا جس سے لوگوں کا ایمان اپنے کمال کو پہنچتا۔ افسوس ہے کہ یہ لوگ سوچتے نہیں کہ خدا کا قانون قدرت ایسا محیط ہے کہ اس نے کیڑوں مکوڑوں کو بھی کہ جن سے کچھ ایسا بڑا فائدہ متصور نہیں بے نظیر بنانے سے دریغ نہیں کیا تو کیا اس کی حکمت پر یہ اعتراض نہ ہوگا کہ اس کو دریغ کرنے کا مقام کہاں آ کر سوجھا جس سے تمام انسانوں کی کشتی ہی فرق ہوتی ہے اور جس سے یہ خیال کرنا پڑتا ہے کہ گویا خدا کو ہرگز منظور ہی نہیں کہ کوئی انسان نجات کا مرتبہ حاصل کرے ۔ مگر جس حالت (۱۵۴) میں خدائے تعالی کی نسبت ایسا گمان کرنا کفر عظیم ہے۔ تو بالآخر یہ دوسری بات جو خدا کی شان کے لائق اور بندوں کی حاجت کے موافق ہے ماننی پڑی۔ پھٹے یہ کہ خدا نے بندوں کی نجات اور تکمیل معرفت کے لئے ضرور ایسی کتاب بھیجی ہے جو عدیم النظیر ہونے کی وجہ سے معرفت کامل تک پہنچاتی ہے اور جو کام مجرد عقل سے نہیں ہوسکتا۔ اس کو پورا کر کے دکھاتی ہے۔ سو وہ کتاب قرآن شریف