براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 159
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۷ براہین احمدیہ حصہ سوم اُن کے جسم میں مشہود اور موجود پاتے ہیں جو صانع عالم کے وجود پر دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ ہیں۔ علاوہ ان سب دلائل کے یہ بات بھی ہر یک دانشمند پر روشن ہے (۱۵۳) ه حاشیه نمبر ا ا کہ ایک صانع کے موجود ہونے کی ضرورت ہے اور بیچ تو یہ ہے کہ اس ادنی خیال میں بھی بے ایمانوں کی طرح ان کو شکوک اور شبہات ہی پڑتے رہے اور طریقہ حقہ پر ان کا قدم نہیں پڑا۔ بعض خدا کے مدبر و خالق بالا رادہ ہونے سے انکاری رہے۔ بعض اس کے ساتھ ھیولی کو لے بیٹھے ۔ بعض نے جمیع ارواح کو خدا کی قدامت میں بھائی بندوں کی طرح حصہ دار ٹھہرایا جن کے وارث اب تک آریہ سماج والے چلے آتے ہیں ۔ بعض نے ارواح انسانیہ کی بقا کو اور دار جز اسنزا کو تسلیم نہ کیا۔ بعض نے زمانہ کو ہی خدا کی طرح موثر حقیقی قرار دے دیا۔ بعض نے خدا کے عالم بالجزئیات ہونے سے منہ پھیر لیا۔ بعض بتوں پر ہی قربانیاں چڑھاتے رہے اور مصنوعی دیوتوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے اور بہتیرے بڑے بڑے حکیم خدا وند تعالی کے وجود سے ہی منکر رہے اور کوئی ان میں ایسا نہ ہوا کہ ان تمام مفاسد سے بچ رہتا۔ اب ہم اصل کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ مجرد ملا حظ مخلوقات سے ہرگز یقین کامل حاصل نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی کسی کو ہوا بلکہ جس قدر حاصل ہوسکتا ہے اور شاید بعضوں کو ہوا ہو وہ اس قدر ہے کہ جو ہونا چاہیے کا مصداق ہے اور یہ بھی وجود صانع عالم کی بابت ہے اور جزا وسزا وغیرہ میں تو اتنا بھی نہیں۔ اور جب کہ مخلوقات پر نظر ڈالنے سے یقین کامل حاصل نہ ہو سکا تو دو باتوں میں سے ایک بات ماننی پڑی۔ یا تو یہ کہ خدا نے یقین کامل تک پہنچانے کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ اور یا یہ کہ ضرور اس نے یقین کامل تک پہنچانے کے لئے کوئی ذریعہ رکھا ہے۔ لیکن امر اول الذکر تو بدیہی البطلان ہے اور کسی عاقل کو اس کے باطل ہونے میں کلام نہیں ۔ اور امر دویم کے قرار دینے کی حالت میں یعنی اس صورت میں کہ جب ہم تسلیم کریں کہ خدا نے مخلوقات کی نجات کے لئے ضرور کوئی کامل ذریعہ ٹھہرایا ہے۔ بجز اس بات کے ماننے کے اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ کامل ذریعہ ایسی کتاب الہامی ہو گی جو اپنی ذات میں بے مثل و مانند ہو اور اپنے بیان میں قانونِ قدرت کے ہر ایک اجمال کو کھولتی ہو ۔ کیونکہ جب کامل ذریعہ کے لئے یہ شرط ہوئی کہ وہ چیز