براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 120

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۱۸ براہین احمدیہ حصہ دوم نام تو حید ہے بجز امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑ ہا مخلوقات کو وحدانیت الہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس بچے خدا کی طرف رہبر ہو۔ ہر یک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنا لیا اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لا زوال اور غیر مبدل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔ سو یہ تمام واقعات ایسے ہیں کہ جن سے ہادی اسلام کا صدق نبوت اظہر من الشمس ہے۔ کیونکہ معنے نبوت کے اور علت غائی رسالت اور پیغمبری کی انہیں کی ذات بابرکات میں ثابت اور متحقق ہورہی ہے اور جیسا کہ مصنوعات سے صانع شناخت کیا جاتا ہے ویسا ہی عاقل لوگ اصلاح موجودہ سے اس مصلح ربانی کی شناخت کر رہے ہیں اسی طرح ہزار ہا ایسے ہے۔ پس کیا کوئی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ یہ نیکی جیسی آنحضرت سے ظہور میں آئی ہے کسی اور نبی سے ظہور میں نہیں آئی۔ آج دنیا میں بجز فرقان مجید کے اور کونسی کتاب ہے کہ جس نے کروڑ ہا مخلوقات کو تو حید پر قائم کر رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کے ہاتھ سے بڑی اصلاح ہوئی وہی سب سے بڑا ہے۔ اس جگہ پادری فنڈر صاحب مصنف میزان الحق اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ فی الحقیقت اس زمانہ کے عیسائی کہ جب دین اسلام شروع ہوا تھا۔ سخت سخت بدعتوں میں گرفتار تھے اور انجیل پر سے ان کا عمل جاتا رہا تھا اور پھر بعد اس کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر کے لکھتے ہیں کہ یہی باعث تھا جو خدا نے ان کو دین پھیلانے سے نہ روکا۔ کیونکہ اس وقت خدا کو بھی منظور تھا جو عیسائیوں کو کہ جنہوں نے انجیل پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا تنیہ اور سزا دے۔