براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 119

روحانی خزائن جلد 1 ۱۱۷ براہین احمدیہ حصہ دوم نظر نہیں آتا کہ جہاں بذریعہ انجیل کے اشاعت توحید کی ہوئی ہو۔ بلکہ انجیل کے ماننے والے موحد کو ناجی ہی نہیں سمجھتے اور پادری لوگ اہل تو حید کو ایک اندھیری آگ میں بھیج رہے ہیں کہ جہاں رونا اور دانت پینا ہوگا اور بقول ان کے اس کالی آگ سے وہی شخص بچے گا جو خدا پر موت اور مصیبت اور بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور تجسم اور حلول ہمیشہ کے لئے روا رکھتا ہو ۔ ورنہ کوئی صورت بچنے کی نہیں ۔ گویا وہ فرضی بہشت یورپ کی دو بزرگ قوموں انگریزوں اور روسیوں کو نصفا نصف تقسیم کر کے دیا جائے گا اور باقی سب موحد اس قصور سے جو خدا کو ہر ایک طرح کے نقصان سے جو اس کے کمال تام کے منافی ہے پاک سمجھتے تھے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ غرض ہماری اس تحریر سے یہ ہے کہ آج صفحہ دنیا میں وہ شے کہ جس کا دوسرے ملک سے اتحاد سلسلہ نوعی کی کارروائی شروع ہوگئی تھی اور بوجہ میل ملاپ دائی کے خیالات بعض ملکوں کے بعض ملکوں میں اثر کرنے لگے تھے۔ چنانچہ یہ کارروائی اب تک ترقی پر ہے اور سارے سامان جیسے ریل تار اور جہاز وغیرہ ایسے ہی دن بدن نکلتے آتے ہیں کہ جن سے یقیناً یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قادر مطلق کا یہی ارادہ ہے کہ کسی دن تمام دنیا کو ایک قوم کی طرح بنا دے۔ بہر حال پہلے نبیوں کی محدود کوشش تھی کیونکہ ان کی رسالت بھی ایک قوم میں محدود ہوتی تھی اور آنحضرت کی غیر محدود اور وسیع کوشش تھی کیونکہ ان کی رسالت عام تھی ۔ یہی وجہ ہے جو فرقان مجید میں دنیا کے تمام مذاہب باطلہ کا روموجود ہے اور انجیل میں صرف یہودیوں کی بد چلنی کا ذکر ہے ۔ پس آنحضرت کا دوسرے نبیوں سے افضل ہونا ایسی غیر محدود کوشش سے ثابت ہے۔ ماسوا اس کے یہ بات اجلی بدیہات ہے کہ شرک اور مخلوق پرستی کو ۱۲۶ دور کرنا اور وحدانیت اور جلال الہی کو دلوں پر جمانا سب نیکیوں سے افضل اور اعلیٰ نیکی