براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 121

روحانی خزائن جلد ۱ 119 براہین احمدیہ حصہ دوم اور بھی واقعات ہیں کہ جن سے آنحضرت کا موید بتائید الہی ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر، بے زور، ٹیکس، امی، یتیم ، تنہا ، غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور حج واضحہ سے سب کی زبان بند کر دی اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے ۔ فاش غلطیاں نکالیں اور پھر با وجود بے کسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ با دشا ہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھایا ۔ اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھی۔ کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آ جانا بغیر تائید الہی کے بھی ہوا کرتا ہے۔ خیال کرنا چاہئے کہ جب آنحضرت نے پہلے پہل اب پادری صاحب کی دیانت اور انصاف اور ایمانداری کو دیکھئے۔ کہ بات کو کہاں سے کہاں گھسیٹ کر لے گئے۔ اپنے عیسائی بھائیوں پر قہر الہی نازل کر دیا مگر آنحضرت کی رسالت قبول کرنا طبیعت پر گوارا نہ ہوا۔ واہ رے تیرا تعصب سزا دینے کی خوب کہی ۔ افسوس کہ پادری صاحب کو ایسی متعصبانہ رائے ظاہر کرتے ہوئے کچھ خدا کا خوف نہ آیا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ ۱۲۷ خدا تعالی کی نسبت یہ بات منہ پر لانا کہ وہ ایک عالم کو گمراہ اور غلطی میں پاکر ان کے لئے ایسا سامان مقرر کرتا ہے کہ جس سے وہ اور بھی گمراہی میں پڑیں نہایت درجہ کا کفر اور پرلے درجہ کی بے باکی اور ہٹ دھرمی ہے اور یہ پادری صاحبوں کی ہی نیک بختی اور دینداری ہے کہ آنحضرت کی عداوت کے لئے خدا کو بھی ہادی ہونے کی صفت سے جواب دیتے ہیں ۔ ورنہ کون عاقل اور ایماندار اس فعل کو خدا کی طرف نسبت دے سکتا ہے کہ خدا کو اس زمانہ میں کہ جب گمراہی اور بد اعتقادی کمال کو پہنچ گئی تھی اور لوگ سراسر شرک اور مخلوق پرستی میں ڈوب گئے تھے ۔ یہی تدبیر