براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 103
روحانی خزائن جلد 1 1+1 براہین احمدیہ حصہ دوم جاتی ہے کہ اسی کو اپنا دھرم بناوے۔ مگر تعجب کہ اس اعتقاد کا وید میں کہیں ذکر تک نہیں ۔ اور کوئی شرقی اس میں ایسی نہیں کہ اس متعصبانہ بدظنی کی تعلیم دیتی ہو ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشلوک انہیں دنوں میں گھڑا گیا ہے کہ جب آریہ قوم کے عقلمندوں نے اپنی پستکوں اور بھنے اگر خدا کی کلام کے لکھنے کے لئے سمندر کو سیاہی بنایا جائے تو لکھتے لکھتے سمند رختم ہو جائے اور کلام میں کچھ کمی نہ ہو۔ گو ویسے ہی اور سمندر بطور مدد کے کام میں لائے جائیں ۔ رہی یہ بات کہ ہم لوگ ختم ہونا وحی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کن معنوں سے مانتے ہیں۔ سو اس میں اصل حقیقت یہ ہے کہ گو کلام الہی اپنی ذات میں غیر محدود ہے۔ لیکن چونکہ وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے کلام الہی نازل ہوتی رہی یا وہ ضرورتیں کہ جن کو الہام ربانی پورا کرتا رہا ہے۔ وہ قدر محدود سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس لئے کلام الہی بھی اسی قدر نازل ہوئی ہے کہ جس قدر بنی آدم کو اس کی ضرورت تھی۔ اور قرآن شریف ایسے زمانہ میں آیا تھا کہ جس میں ہر ایک طرح کی ضرورتیں کہ جن کا پیش آنا ممکن ہے پیش آگئی تھیں اپنے تمام امور اخلاقی اور اعتقادی اور قولی اور فعلی بگڑ گئے تھے اور ہر ایک قسم کا افراط تفریط اور ہر ایک نوع کا فسادا اپنے انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ اس لئے قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہوئی۔ پس انہیں معنوں سے شریعت فرقانی مختتم اور مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں کیونکہ پہلے زمانوں میں وہ مفاسد کہ جن کی اصلاح کے لئے الہامی کتابیں آئیں وہ بھی انتہائی درجہ پر نہیں پہنچے تھے اور قرآن شریف کے 110 وقت میں وہ سب اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے ۔ بس اب قرآن شریف اور دوسری الہامی کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتا بیں اگر ہر ایک طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں ۔ پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم یعنے فرقان مجید ظہور پذیر ہوتا۔ مگر قرآن شریف کے لئے اب یہ ضرورت در پیش نہیں کہ اس کے بعد کوئی اور کتاب بھی آوے۔ کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ باقی نہیں۔ ہاں اگر یہ فرض کیا جائے کہ کسی وقت اصول حقہ قرآن شریف کے دید اور انجیل کی طرح مشرکانہ اصول بنائے جائیں گے اور تعلیم تو حید میں تبدیل اور تحریف عمل میں آوے گی۔ یا اگر ساتھ اس کے یہ بھی فرض کیا جائے۔ جو کسی زمانہ میں وہ کروڑ با مسلمان جو توحید پر قائم ہیں