براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 104
روحانی خزائن جلد 1 ۱۰۲ براہین احمدیہ حصہ دوم شاستروں میں یہ بھی لکھ مارا تھا جو ہمالہ پہاڑ اور کچھ ایشیا کے حصہ سے پرے کوئی ملک ہی نہیں اور اسی طرح اور بھی سینکڑوں خام خیالیاں اور وہم پرستیاں کہ جن کا اس وقت ذکر کرنا ہی فضول ہے اور جواب روز بروز دنیا سے مٹی جاتی ہیں اور علم اور عقل کے حاصل کرنے والے خود بخو دان کو چھوڑتے جاتے ہیں انہیں دنوں میں نکلی تھیں ۔ پس غضب کی بات ہے وہ بھی پھر طریق شرک اور مخلوق پرستی کا اختیار کر لیں گے ۔ تو بے شک ایسی صورتوں میں دوسری شریعت اور دوسرے رسول کا آنا ضروری ہوگا ۔ مگر دونوں قسم کے فرض محال میں قرآن شریف کی تعلیم کا محرف مبدل ہونا اس لئے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (سورة الحجر الجزو نمبر (۱۴) اپنے اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔ سو تیرہ سو برس سے اس پیشینگوئی کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔ اب تک قرآن شریف میں پہلی کتابوں کی طرح کوئی مشر کا نہ تعلیم ملنے نہیں پائی اور آئندہ بھی عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ اس میں کسی نوع کی مشر کا نہ تعلیم مخلوط ہو سکے کیونکہ لاکھوں مسلمان اس کے حافظ ہیں ۔ ہزار ہا اس کی تفسیریں ہیں۔ پانچ وقت اس کی آیات نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اسی طرح تمام ملکوں میں اس کا پھیل جانا۔ کروڑ ہانسے اس کے دنیا میں موجود ہونا۔ ہر یک قوم کا اس کی تعلیم سے مطلع ہو جانا۔ یہ سب امور ایسے ہیں کہ جن کے لحاظ سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر اور تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع اور محال ہے۔ اور مسلمانوں کا پھر شرک اختیار کرنا اس جہت سے ممتمعات میں سے ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس بارے میں بھی پیشین گوئی کر کے آپ فرما دیا ہے ۔ مَا يُبْدِئُ الْبَاطِلَ وَمَا يُعِيدُ (سورہ سبا الجز (۲۲) جتنے شرک اور مخلوق پرستی جس قدر دور ہو چکی ہے۔ پھر وہ نہ اپنی کوئی نئی شاخ نکالے گی اور نہ اسی پہلی حالت پر عود کرے گی ۔ سو اس پیشین گوئی کی صداقت بھی اظہر من الشمس ہے کیونکہ باوجود منقضی ہونے زمانہ دراز کے اب تک ان قوموں اور ان ملکوں میں کہ جن سے مخلوق پرستی معدوم کی گئی تھی ۔ پھر شرک الحجر : ١٠ سبا ۵۰