براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 102

روحانی خزائن جلد 1 1++ براہین احمدیہ حصہ دوم بنانا ہی پڑا۔ اور باقی سب لوگوں کو ہمیشہ کے لئے اس مرتبہ عالیہ سے جواب مل گیا اور کوئی کسی الزام سے اور کوئی کسی تقصیر سے اور کوئی آریہ قوم اور آریہ دیس سے باہر سکونت رکھنے کے جرم سے الہام پانے سے محروم رہا۔ اب دیکھنا چاہیے کہ اس نا پاک اعتقاد میں خدا کے مقبول بندوں پر کہ جنہوں نے آفتاب کی طرح ظہور کر کے اس اندھیرے کو دور کیا جو ان کے وقت میں دنیا پر چھا رہا تھا کس قدر ناحق بے موجب بدظنی کی گئی ہے اور پھر اپنے پر میشر پر بھی یہ بدظنی جو اس کو ۱۰۹ غافل یا مد ہوش یا مخبط الحواس تصور کیا ہے کہ جو اس قدر بے خبر ہے کہ گو بعد دید کے ہزار ہا طور کی نئی نئی بدعتیں نکلیں اور لاکھوں طرح کے طوفان آئے اور اندھیریاں چلیں اور رنگا رنگ کے فساد بر پا ہوئے اور اس کے راج میں ایک بری طرح کا گڑ بڑ پڑ گیا اور دنیا کو اصلاح جدید کی سخت سخت حاجتیں پیش آئیں۔ پر وہ کچھ ایسا سویا کہ پھر نہ جاگا اور کچھ ایسا کھسکا کہ پھر نہ آیا۔ گویا اس کے پاس اتنا ہی الہام تھا جو وید میں خرچ کر بیٹھا اور وہی سرمایہ تھا جو پہلے ہی بانٹ چکا اور پھر ہمیشہ کے لئے خالی ہاتھ رہ گیا اور منہ پر مہر لگ گئی اور ساری صفتیں اب تک بنی رہیں ۔ مگر تکلم کی صفت صرف وید کے زمانہ تک رہی پھر باطل ہوگئی اور پر میشر ہمیشہ کے لئے کلام کرنے ۱۱۰ اور الہام بھیجنے سے عاجز ہو گیا * یہ اعتقاد آریہ قوم کا ہے کہ جس پر ہریک ہندو کو رغبت دلائی شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ وسوسہ اٹھے کہ مسلمانوں کا بھی یہی اعتقاد ہے کہ وحی حضرت آدم سے شروع ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ۔ سو اس عقیدہ کے رو سے بھی بعد زمانہ حضرت خاتم الانبیاء کے انقطاع وحی کا ہمیشہ کے لئے لازم آیا۔ سو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے جو ہمارا ہندوؤں کی طرح ہر گز یہ اعتقاد نہیں جو خدا کے پاس اتنی ہی کلام تھی جتنی وہ ظاہر کر چکا ۔ بلکہ ہمو جب اعتقاد اسلام کے خدا کی کلام اور خدا کا علم اور حکمت مثل ذات اس کی کے غیر محدود ہے ۔ چنانچہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے ۔ قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا۔ (سوره كهف الجز ونمبر ۱۶) الكهف: ١١٠