براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 101
روحانی خزائن جلد 1 ۹۹ براہین احمدیہ حصہ دوم اور وہ بھی صرف تین یا چار کہ جن سے مسئلہ الہام اور رسالت کا قوانین عامہ قدرتیہ اور (۱۰۸) عادات قدیمہ الہیہ میں داخل بھی نہیں ہوسکتا اور امر نبوت اور وحی کا باعث قلت تعداد الہام یافتہ لوگوں کے ضعیف اور غیر معتبر اور مشکوک اور مشتبہ ٹھہر جاتا ہے اور نیز کروڑہا بندگان خدا جو اس ملک سے بے خبر رہے یا یہ ملک ان کے ملکوں سے بے خبر رہا۔ فضل اور رحمت اور ہدایت الہی سے محروم اور نجات سے بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ اور پھر طرفہ یہ کہ بموجب خوش عقیدہ آریہ صاحبوں کے وہ تین یا چار بھی خدا تعالیٰ کے ارادہ اور مصلحت خاص سے منصب نبوت پر مامور نہیں ہوئے بلکہ خود کسی نامعلوم جنم کے نیک عملوں کے باعث سے اس عہدہ پانے کے مستحق ہو گئے اور خدا کو بہر حال انہیں پیغمبر کرنے سے تیسری رائے صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ اب بھی دید کے جدا جدا منتروں پر جدا جدا رشیوں کے نام لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ اور اتھرون وید کی نسبت تو اکثر محقق پنڈتوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ وہ ایک جعلی وید یا براہمن پتک ہے جو پیچھے سے ویدوں کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ (۱۰۸) اور یہ رائے بچی بھی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ رگ وید میں جو سب ویدوں کا اصل الاصول اور سب سے زیادہ معتبر خیال کیا جاتا ہے صرف رگ اور حجر اور شام وید کا ذکر ہے اور اتھرون وید کا نام تک درج نہیں ۔ اگر وہ ودید ہوتا تو اس کا بھی ضرور ذکر ہوتا۔ پھر یجر وید کے ۲۶۔ ادھیاء میں بھی صاف لکھا ہے کہ وید صرف تین ہی ہیں اور ایسا ہی شام وید میں بھی ویدوں کا تعین ہونا ہی بیان کیا ہے اور منوجی بھی اپنی پستک کے ساتویں ادھیا بیالیسویں اشلوک میں تین وید ہی تسلیم کرتے ہیں اور جوگ بششٹ میں جو ہندوؤں میں بڑی متبرک کتاب شمار کی جاتی ہے اور ان تعلیمات کا مجموعہ ہے جو خاص راجہ رام چندر جی کو ان کے بزرگ استاد نے دی تھیں ۔ چاروں ویدوں کی نسبت ایسا صاف بیان کیا ہے کہ بس فیصلہ ہی کر دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ صرف اتھرون وید کے دید ہونے میں بحث نہیں۔ بلکہ سارے ویدوں کا یہی حال ہے اور کوئی ان میں سے ایسا نہیں جو تغیر اور تبدل اور کمی اور بیشی سے خالی ہو۔ منہ