براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 100
روحانی خزائن جلد ۱ ۹۸ براہین احمدیہ حصہ دوم اپنے وسیع دریا ہدایت اور رہنمائی کو انہیں کے چھوٹے سے ملک میں گھسیڑ دیا ہے اور ہمیشہ اس کو انہیں کا دیں اور انہیں کی زبان اور انہیں میں سے پیغمبر پسند آ گئے ہیں ہونے لگتا ہے تو پہلے ایسے ایسے ہی خیالات فاسدہ دل میں اٹھا کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ پکا سودائی ہو جاتا ہے پس اس سے ثابت ہے کہ بغیر معقول وجوہ رکھنے کے بدظنی کرنا ایک شعبہ دیوانگی کا ہے کہ جس سے عاقل آدمی ضرور ہے کہ پر ہیز کرے اور خدا نے قوت نیک ظنی کی جو انسان کی فطرت میں ڈال دی تو اس میں یہ حکمت ہے جو بنی آدم میں راست گوئی اور راست روشی بھی ایک فطرتی قوت ہے اور جب تک انسان کسی قاسر سے مجبور نہ ہو نہ جھوٹ بولنا چاہتا ہے اور نہ کسی اور طرح کی بدی کا ارتکاب جائز رکھتا ہے اور اگر نیک فلنی کی قوت انسان کو عطا نہ کی جاتی تو وہ تمام فوائد جو راستگوئی اور راست روشی کی قوت کے ذریعہ سے ایک سے دوسرے کو پہنچتے ہیں اور جن پر تمام مہمات تمدن اور معاشرت اور تدابیر منزلی اور ملکی موقوف ہیں ضائع ہو جاتے اور نفوس انسانی جمیع منافع سے جو قوت مذکور کے استعمال پر مرتب ہوتے ہیں محروم رہ جاتے مثلاً یہ نیک ظنی کی ہی برکت ہے کہ چھوٹے بچے بآسانی بولنا اور باتیں کرنا سیکھ لیتے ہیں اور ما باپ کو ما باپ کر کے جانتے ہیں اگر بدظنی کرتے تو کچھ بھی نہ سیکھتے اور دل میں کہتے کہ شایدان سکھانے والوں کی کچھ اپنی ہی غرض ہوگی اور آخر اس بدظنی سے گنگے ہی رہ جاتے اور والدین کے والدین ہونے میں بھی شک ہی رہتا۔ منہ جو حال میں ہند و صاحبان کے ہاتھ میں وید ہیں جن کو وہ رگ اور حجر اور شام اور اتھرون سے موسوم کرتے ہیں۔ اور ریچ اور سبخش اور سامن اور انتھر و نا بھی بولتے ہیں ۔ ان کا ٹھیک ٹھیک حال کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کن حضرات پر نازل ہوئے تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ اگنی اور وایو اور سورج کو یہ الہام ہوا تھا جو بالکل نا معقول بات ہے ۔ اور کسی کا یہ دعوئی ہے کہ برہما کے چار مکھ سے یہ چاروں وید نکلے تھے اور کسی کی یہ رائے ہے کہ یہ الگ الگ رشیوں کے اپنے ہی بچن ہیں ۔ اب ان بیانات میں یہاں تک شک ہے کہ کچھ پتہ نہیں ملتا کہ آیا ان اشخاص کا کچھ خارج میں وجود بھی تھا یا محض فرضی نام ہیں اور دید پر نظر