براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 97
روحانی خزائن جلد 1 ۹۵ براہین احمدیہ حصہ دوم جو ہمارے بزرگوں پر نازل ہوئی تھی اور باقی سب الہامی کتابیں جن سے دنیا کو ہزار ہا طور کا ۱۰۵ فائدہ تو حید اور معرفت الہی کا پہنچا ہے۔ وہ لوگوں نے آپ ہی بنالی ہیں ۔ سواگر چہ یہ دعویٰ تو اس کتاب میں ایسارڈ کیا گیا ہے کہ وید موجودہ کا قصہ ہی پاک ہو گیا ہے۔ لیکن اس جگہ ہم کو یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ کس قدر ان لوگوں کے خیالات اصول حسن ظن اور تہذیب اور پاک دلی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور کیسے یہ لوگ تعصب قدیم کی شامت سے جو ان کی رگ وریشہ اور تار اور پور میں اثر کر گیا ہے۔ ان نیک ظنی کی طاقتوں کو جو انسان کی شرافت تو گویا یہ خدا پر بھی اعتراض ٹھہر جو اس کو جو ہر قابل کی شناخت نہیں۔ اور نعوذ باللہ یہ ماننا پڑا جو خدا بھی بد وضع لوگوں کی طرح چوروں ڈاکوؤں سے ہی میل ملاپ رکھتا ہے۔ تم آپ ہی سوچو کہ جو لوگ خدا اور خلقت میں واسطہ ہیں اور جو آسمانی نوروں کو زمین پر پھیلانے والے ہیں ۔ وہ کامل چاہئے یا ناقص اور راستباز چاہیئے یا دروغ باز ۔ جب علت غائی رسالت اور پیغمبری کی عقائد حقہ اور اعمال صالحہ پر قائم کرنا ہے تو پھر اگر اس علت غائی پر نبی لوگ آپ ہی قائم نہ ہوں تو ان کی کون سن سکتا ہے اور کا ہے کو ان کی بات میں اثر ہوگا ۔ ان کو تو اُمّی لوگ ضرور کہیں گے ۔ کہ اے ۱۰۵ تو حکیمو۔ پہلے تم اپنا ہی علاج کراؤ۔ اور ماسوا اس کے کیا یہ انصاف ہے یا تہذیب ہے یا خدا ترسی میں داخل ہے۔ جو خدا کے پاک نبیوں کا نام ایسا ہتک اور استخفاف سے لیں کہ جیسے کسی ذلیل مذکوری یا چوکیدار کا اور اگر کسی دنیا دار کا نام لکھیں تو ایک بالشت بھر القاب لکھتے ہی چلے جائیں۔ اس سے کم نہیں۔ کیا یہ جائز ہے کہ ایک بقال دولتمند کی تعظیم کے لئے سر وقد اٹھ کھڑے ہوں اور جن لوگوں کو خدا کی ہم کلامی کی عزت حاصل ہے اور ان میں وہ خوبیاں ہیں جو خدا کو بھا گئی ہیں وہ ایسی نظر میں حقیر معلوم ہوں جو ان کی زبان سے بھی تعظیم نہ کی جائے۔ اگر وہ تمہاری دانست میں حقیر ہیں تو پھر ان کو نبی کیوں مانتے ہو ۔ سیدھے یہی کیوں نہیں کہتے کہ ہم کو ان کی نبوت سے ہی انکار ہے۔ سارا باعث ان بدگمانیوں کا یہ ہے کہ آپ لوگوں کو الہام الہی کی حقیقت معلوم نہیں اور آپ لوگ ایسا سمجھ رہے ہیں کہ الہام بھی ایک جسمانی خدمت ہے کہ جیسے کسی شخص کو کسی بدانتظام