براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 98
روحانی خزائن جلد 1 ۹۶ براہین احمدیہ حصہ دوم اور نجابت اور سعادت کا معیار تھیں اور اس کی انسانیت کا زیب وزینت تھیں ۔ بہ یکبار کھو بیٹھے ہیں جو ان کے دلوں میں یہ خیال سمایا ہوا ہے جو بجز آریہ دلیس کے اور جتنے ملکوں میں نبی اور رسول آئے جنہوں نے بہت سے لوگوں کو تاریکی شرک اور مخلوق پرستی سے باہر گورنمنٹ سے کوئی عہدہ مثلاً حجی یا تحصیلداری یا رسالداری کا کچھ دے دلا کر بغیر دریافت چال چلن اور لیاقت کے مل جاتا ہے۔ یا جس میں حکام کو صرف کام لینے سے مطلب ہوتا ہے اور کچھ تھوڑی سی معمولی نیک چلنی اور لیاقت دیکھی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ عہدہ ہی ایسا ذلیل اور نا چیز ہوتا ہے کہ جس میں کامل دیانتداری اور نیک چلنی اور نیک وضعی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ لیکن اے بھائیو! یہ آپ لوگوں کی کمال غلطی ہے۔ وحی الہی وہ خدا کی پاک کلام ہے کہ جس میں نو منزل علیہ کی طہارت تامہ اور قابلیت کاملہ شرط ہے۔ کیونکہ جو شخص طرح طرح کے اغشیہ جسمانی اور اہو یہ نفسانی سے محجوب ہے۔ اس میں اور مبدا پاک میں پرلے درجہ کی دوری واقعہ ہے کہ جس سے وہ قابل افاضہ الہام الہی ہر گز نہیں تھہر سکتا۔ پس جب تک ایک نفس کو ہر یک قسم کی نالائق باتوں سے تنزہ تام حاصل نہ ہو جائے تب تک وہ نفس قابلیت فیضان وحی کی پیدا نہیں کرتا اور اگر تنزہ نام کی شرط نہ ہوتی اور قابل اور غیر قابل یکساں ہوتا تو سارا جہان نبی ہو جاتا اور جب تنتز و تام شرط ہے تو پھر نبیوں کو اعلیٰ درجہ کے پاک یقین کرنا چاہیئے کہ جس سے زیادہ تر پا کی نوع انسان کے لئے متصور نہیں۔ اگر حضرت داؤ د ایسے ہی پاک نہ ہوتے کہ جیسے حضرت مسیح پاک تھے تو ہرگز نبی ہونے کے لائق نہ ٹھہرتے ۔ مسیح کو داؤد سے زیادہ پاک اور بہتر سمجھنا یہی ایک غلط خیال ہے جو بباعث سخت نا واقفیت حقیقت الہام اور رسالت کے عیسائی لوگوں کے نیک ظنی انسان میں ایک فطرتی قوت ہے اور جب تک کوئی وجہ بدگمانی کی پیدا نہ ہو تب تک اس قوت کو استعمال میں لانا انسان کا ایک طبعی خاصہ ہے ۔ اور اگر کوئی شخص بلا وجہ اس قوت کا برتنا چھوڑ کر بدظنی کرنے کی عادت پکڑ لے تو ایسا انسان سودائی یا وہمی یا یا کو یا مجنون یا مسلوب الحواس کہلاتا ہے۔ مثلاً جیسے کوئی بازار کی شیرینی یا روٹی وغیرہ کو اس وہم سے کھانا چھوڑ دے کہ کہیں حلوائیوں یا نان بائیوں وغیرہ نے ان چیزوں