براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 96

روحانی خزائن جلد ۱ ۹۴ براہین احمدیہ حصہ دوم (۱۰۴) ہیں کہ جنہوں نے دکی انصاف سے عظمت شانِ اسلام کو قبول کر لیا ہے اور تثلیث کے مسئلہ کا غلط ہونا اور بہت سی بدعتوں کا عیسائی مذہب میں مخلوط ہو جانا اپنی تصنیفات میں بڑی شد و مد سے بیان کیا ہے ۔ مگر افسوس کہ یہ انصاف ہمارے ہم وطنوں آریہ قوم سے مٹا جاتا ہے۔ اس قوم کو تعصب نے اس قدر گھیرا ہے کہ انبیاء کا ادب سے نام لینا بھی ایک پاپ سمجھتے ہیں اور تمام انبیاء کی کسرشان کر کے اور سب کو مفتری اور جعلساز ٹھہرا کر یہ دعوی بلا دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایک دید ہی خدا کی کلام ہے نے ان کو بہت خراب کر رکھا ہے کہ جیسے یہ لکھا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے جتنے پہلے نبی آئے وہ سب چور اور ڈاکو تھے۔ مگر یہ متکبرانہ الفاظ کسی حالت میں کسی نیک پاک آدمی کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے ۔ حضرت مسیح تو ایسے خدا کے متواضع اور حلیم اور عاجز اور بے نفس بندے تھے۔ جو انہوں نے یہ بھی روانہ رکھا جو کوئی ان کو نیک آدمی کہے۔ پھر کیونکر ان کی طرف کوئی غرور آمیز لفظ کہ جس میں اپنی شیخی اور دوسرے کی تو ہین پائی جاتی ہے منسوب کیا جائے ۔ بے شک اگر ہم خدا کے پاک نبیوں کو چور اور ڈاکو کہیں تو ہم چوروں اور ڈاکوؤں سے ہزار درجہ بدتر ہیں ۔ جن دلوں پر خدا کی کلام مقدس نازل ہوتی رہی ہے اگر وہ دل مقدس نہیں تھے تو نا پاک کو پاک سے کیا نسبت تھی۔ یہ نہایت چالا کی ہے جو خدا کے ستودہ بندوں کی شان میں بے جا الفاظ بولے جائیں۔ کیا افسوس کا مقام ہے کہ جو لوگ اپنی خودی سے ایک دم با ہر نہیں نکلتے اور جنہوں نے دنیا سے ایسی رابطہ بڑھائی اور تعلق پیدا کئے کہ ان کے دلوں میں ہر دم دنیا ہی دنیا ہے۔ وہ خدا کے مقدس لوگوں کو تحقیر سے یاد کریں۔ اے بھائیو! نبیوں کا پاک اور کامل اور راستباز ہونا تسلیم کرو تا وہ کتا بیں بھی پاک ٹھہریں جو نبیوں پر نازل ہوئیں ۔ ورنہ جن دلوں سے وہ کتا بیں نکلی ہیں اگر وہ دل ہی پاک نہیں تو پھر کہتا ہیں کیونکر پاک ہو سکتی ہیں۔ کیا ممکن ہے جو دھاتورے کے درخت کو انگور کا پھل لگے ۔ یا آگ کو انجیر ۔ جب چشمہ کا پانی صاف ہے تو چشمہ بھی صاف ہی سمجھو۔ اگر وہ لوگ چیدہ اور برگزیدہ اور خدا کے کامل وفادار بندے نہیں تھے