براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 91

روحانی خزائن جلد ۱ ۸۹ براہین احمدیہ حصہ دوم ہیں ۔ کوئی کتھا یا قصہ یا کہانی مراد نہیں ہے۔ غرض ہر یک باب میں عقلی دلیل جو کتاب الہامی میں درج ہو دکھلا دیں اور صرف اپنے ہی خیال سے کوئی قیاسی امر بیان کرنا کہ جس کا کوئی اصل صحیح کتاب میں نہیں پایا جا تا روا نہ رکھیں ۔ کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے۔ کہ ربانی کتاب کا یہ آپ ذمہ ہے کہ اپنے الہامی ہونے کے بارے میں جو جو دعویٰ کرنا واجب ہے وہ آپ کرے اور اس کی دلائل بھی آپ لکھے اور ایسا ہی اپنے اصولوں کی حقیت کو ۱۰۰ آپ دلائل واضحہ سے بپایۂ صداقت پہنچادے نہ یہ کہ کتاب الہامی اپنا دعوی پیش کرنے اور اس کا ثبوت دینے سے قطعا ساکت ہو اور اپنے اصولوں کی وجوہ صداقت پیش کرنے سے بھی بکلی سکوت اختیار کرے اور کوئی دوسرا اٹھ کر اس کی وکالت کرنا چاہے ۔ الہامی کتاب کا اپنے اصول کی سچائی پر آپ دلائل بیان کرنا اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ ۱۰۰ الہامی کتاب کا صرف یہ منصب نہیں ہے کہ اس سے کوئی شخص طوطے کی طرح چند غیر معقول اور مجہول الکیفیت با تیں سیکھ کر اپنے دل میں سمجھ بیٹھے کہ بس اب میں نجات پا گیا۔ بلکہ عمدہ کام الہامی کتاب کا تو یہی ہے کہ دلائل عقلیہ بتلا کر اس لازوال مرتبہ یقین تک پہو نچاوے جو کسی وسوسہ انداز کے وسوسہ ڈالنے سے زائل نہ ہو سکے۔ تا اس کامل یقین کی برکت سے سارے اعمال اور اقوال اور عقائد ایماندار کے درست ہو جائیں اور تا راستی کو حقیقت میں راستی سمجھ کر اور بھی کو حقیقت میں کبھی سمجھ کر حقیقی تقویٰ کی صفت سے متصف ہو جائے ۔ کیونکہ جب تک انسان جہالت کے دوزخ میں پڑا ہوا ہے اور بجز ایمان تقلیدی کے کہ جس پر باعث غفلت اور لاپروائی اور غلبہ حب دنیا کے پورا پورا اسے یقین بھی نہیں رہا۔ اور کسی طرح کی عقلی بصیرت اس کو حاصل نہیں تو وہ بڑی خطرہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کے حسب حال یہ آیت قرآن شریف کی ہے۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلا - ( سورۃ بنی اسرائیل سیپارہ ۱۵) یعنے جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ بلکہ اندھوں سے بدتر ۔ پس جو کتاب اپنی حقیت اور اپنے اصول کی حقیت کو ثابت کر کے نہیں دکھلاتی ۔ وہ انسان پر حقیقی سعادت بنی اسرائیل :۷۳