براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 90
روحانی خزائن جلد 1 ۸۸ براہین احمدیہ حصہ دوم میں یہ بات غیر ممکن ہو جاتی ہے جو ناظرین اس کتاب کے کہ جن کے پاس فریق ثانی کی کتاب موجود نہیں کسی بات کو صحیح طور پر سمجھ سکیں یا کسی رائے کے ظاہر کرنے کا موقعہ پاویں۔ پس چونکہ یہ کتاب اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے کہ جس میں بہ نیت اتمام حجت کے پورا پورا جواب دینے والے کو انعام کثیر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تو ایسی کتاب کے مقابلہ پر فریب اور تدلیس کو استعمال میں لانا ایک بے جا اور بے سود چالا کی ہے۔ لہذا بکمال تاکید لکھا جاتا ہے کہ صفائی اسی میں ہے اور صرف اسی حالت میں کوئی رد لکھنے والا شرائط اشتہار سے استفادہ اٹھا سکتا ہے کہ جو تقریر ہمارے منہ سے نکلی ہے اور جو طر ز عبارت ہماری کتاب میں مندرج ہے وہ سب کامل طور پر بہتر تیم وبالفاظہ بیان کرے۔ سوم۔ یہ امر بھی ہر ایک صاحب پر روشن رہے کہ ہم نے اس کتاب میں جس قدر دلائل حقیت قرآن مجید اور براہین صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ سلم لکھی ہیں یا جوجو فضائل اور محاسن قرآن شریف کے اور آیات بینات منجانب اللہ ہونے اس کتاب کے کتاب ہذا میں درج کئے ہیں یا جس طور کا اس کی نسبت کوئی دعوی کیا ہے وہ سب دلائل وغیرہ اسی مقدس کتاب سے ماخوذ اور مستنبط ہیں یعنی دعولی بھی وہی لکھا ہے جو کتاب ممدوح نے کیا ہے اور دلیل بھی وہی لکھی ہے جو اُسی پاک کتاب نے اُس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ نہ ہم نے فقط اپنے ہی قیاس سے کوئی دلیل لکھی ہے اور نہ کوئی دعوی کیا ہے۔ چنانچہ جا بجاوہ سب آیات کہ جن سے ہماری دلائل اور دعاوی ماخوذ ہیں۔ درج کرتے گئے ہیں۔ پس جو صاحب بمقابلہ ہماری دلائل کے کچھ اپنی کتاب کے متعلق لکھنا چاہیں۔ یا کوئی دعوی کریں تو ان پر بھی لازم ہے جو بپابندی اسی طریق معہود ہمارے کے کار بند ہوں۔ یعنی وہی دعوئی اور وہی دلیل نفس کتاب اور اصولِ کتاب کے اثبات کی نسبت پیش کریں جو اُن کی کتاب میں مندرج ہو۔ اور اس جگہ یہ بھی یاد رکھیں کہ دلیل سے مراد ہماری عقلی دلیل ہے کہ جس کو معقولی لوگ اپنے مطالب کے اثبات میں پیش کیا کرتے