براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 92
روحانی خزائن جلد 1 ۹۰ براہین احمدیہ حصہ دوم پس بخوبی یاد خاطر رہے کہ جو صاحب بغرض اثبات حقانیت اپنی کتاب اور اپنے اصول کے کوئی ایسا دعوی یا دلیل پیش کریں گے کہ جس کو ان کی الہامی کتاب نے پیش نہیں کیا تو یہ فعل ان کا اس امر پر شہادت قاطعہ ہوگا جو کتاب مقبولہ ان کی کہ جس کو وہ الہامی خیال کر رہے 101 ہیں ۔ ایفاء مضمون اس شرط سے قاصر ہے۔ कणके چہارم ۔ بخدمت جملہ صاحبان یہ بھی عرض ہے کہ یہ کتاب کمال تہذیب اور رعایت آداب سے تصنیف کی گئی ہے اور اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں کہ جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقہ کی کسر شان لازم آوے اور خود ہم ایسے الفاظ کو صراحنا یا کنا یا اختیار کا دروازہ نہیں کھولتی۔ اور نہ اس کو معقل اور علم میں ترقی بخشتی ہے۔ بلکہ ترقیات سے روکتی ہے اور 3 مردے کی طرح صرف تقلید کے گڑھے میں ڈالنا چاہتی ہے کہ جس میں وہ نہ دیکھے نہ سنے نہ سمجھے اور جو شخص ایسی کتابوں کا پیرو ہوتا ہے وہ عقل اور قیاس اور نظر اور فکر سے کچھ سروکار نہیں رکھتا ۔ بلکہ محض قصوں اور کہانیوں پر بھروسہ کر بیٹھتا ہے اور حقائق امور کی تہہ کو نہیں پہنچتا اور تدبر اور تفکر کی قوت کو بالکل بے کار چھوڑ کر اور ان تمام استعدادوں کو جو اس کے نفس میں مخزون اور مودع میں دانستہ تلف کر کے رفتہ رفتہ حیوانات لایعقل سے بھی پر لے پار ہو جاتا ہے اور بالآ خر طریقہ عقل اور قیاس اور فکر اور ادراک سے کہ جس سے انسان کی تمام انسانیت وابستہ ہے۔ بالکل بریگانہ اور نا آشنا ہو کر ایک ایسا مسلوب الحواس بن جاتا ہے۔ کہ پھر اس لائق ہی نہیں رہتا کہ اس کو انسان کہا جائے اور اس میں یہ قابلیت ہی نہیں رہتی جو عقلی طور پر حق اور باطل میں تمیز کر سکے اور اس پر وہ تمثیل خوب صادق آتی ہے جو فرقان مجید میں مذکور ہے۔ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنَّ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا أُولَيْكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَل لے (سورۃ اعراف سیپارہ ۹) بھنے وہ لوگ جو صرف باپ دادے کی تقلید پر چلنے والے ہیں وہ دل تو رکھتے ہیں پر دلوں سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں بھی ہیں پر الاعراف: ۱۸۰