براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 84

روحانی خزائن جلد ۱ ۸۲ براہین احمدیہ حصہ دوم (۹۲) جس کے اصول نجات کے بالکل راستی اور وضع فطرتی پرمبنی ہیں۔ جس کے عقائد ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو براہین قویہ ان کی صداقت پر شاہد ناطق ہیں جس کے احکام حق محض پر قائم ہیں جس کی تعلیمات ہر یک طرح کی آمیزش شرک اور بدعت اور مخلوق پرستی سے بکلی پاک ہیں جس میں توحید اور تعظیم الہی اور کمالات حضرت عزت کے ظاہر کرنے کے لئے انتہا کا جوش ہے جس میں یہ خوبی ہے کہ سرا سر وحدانیت جناب الہی سے بھرا ہوا ہے اور کسی طرح کا دهبهہ نقصان اور عیب اور نالائق صفات کا ذاتِ پاک حضرت باری تعالیٰ پر نہیں لگاتا اور کسی اعتقاد کو زبر دستی تسلیم کرانا نہیں چاہتا بلکہ جو تعلیم دیتا ہے اس کی صداقت کی وجوہات پہلے دکھلا لیتا ہے اور ہر ایک مطلب اور مدعا کو ححج اور براہین سے ثابت کرتا ہے۔ اور ہر یک اصول کی حقیت پر دلائل واضح بیان کر کے مرتبہ یقین کامل اور معرفت تام تک پہنچاتا ہے۔ اور جو جو خرابیاں اور ناپاکیاں اور خلل اور فساد لوگوں کے عقائد اور اعمال اور اقوال اور افعال میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام مفاسد کو روشن براہین سے دور کرتا ہے اور وہ تمام آداب سکھاتا ہے کہ جن کا جاننا انسان کو انسان بننے کے لئے نہایت ضروری ہے اور ہر یک فساد کی اسی زور سے مدافعت کرتا ہے کہ جس زور سے وہ آج کل پھیلا ہوا ہے اس کی تعلیم نہایت مستقیم اور قوی اور سلیم ہے گویا احکام قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانونِ فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے اور بینائی دلی اور بصیرت قلبی کے لئے ایک آفتاب چشم افروز ہے اور عقل کے اجمال کو تفصیل دینے والا اور اس کے نقصان کا جبر کرنے والا ہے۔ لیکن دوسری کتا بیں جو (۹۳) الہامی کہلاتی ہیں۔ جب ان کی حالت موجودہ کو دیکھا گیا تو بخوبی ثابت ہو گیا جو وہ سب کتابیں ان صفات کا ملہ سے بالکل خالی اور عاری ہیں اور خدا کی ذات اور صفات کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں ان میں پائی جاتی ہیں اور مقلد ان کتابوں کے عجیب عجیب عقائد کے پابند ہورہے ہیں۔ کوئی فرقہ ان میں سے خدا کو خالق اور قادر ہونے سے جواب دے رہا ہے۔ اور قدیم اور خود بخود ہونے میں اس کا بھائی اور حصہ دار بن بیٹھا ہے۔ اور کوئی بتوں اور