براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 83
روحانی خزائن جلد 1۔ Al براہین احمدیہ حصہ دوم ہر یک طور کی کوشش اور جانفشانی اظہار حق کے لئے کی گئی ۔ بالآخران تمام تحقیقا توں سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ آج رُوئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلام الہی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے۔ وہ صرف شہادت واقعہ کی ادا کرتے رہے۔ اور ان کی ساری طرز منقولات کی طر ز تھی اور اسی باعث سے وہ آخر میں بگڑ گئے اور خود غرضوں اور خود پرستوں نے کچھ کا کچھ سمجھ لیا لیکن قرآن شریف کی تعلیم نے عقل کا بھی سارا بوجھ آپ ہی اٹھالیا۔ اور انسان کو ہر یک طرح کی مشکلات سے خلاصی بخشی ۔ آپ ہی مخبر صادق ہو کر الہیات کے واقعات کی خبر دی۔ اور پھر آپ ہی عقلی طور پر اس خبر کو پایہ ثبوت پہنچایا۔ جو شخص دیکھے اسے معلوم ہو کہ قرآن شریف میں دو امر کا التزام اول سے آخر تک پایا جاتا ہے۔ ایک عقلی وجوہ اور دوسری الہامی شہادت۔ یہ دونوں امر فرقان مجید میں دو بزرگ نہروں کی طرح جاری ہیں جو ایک دوسرے کے محاذی اور ایک دوسرے پر اثر ڈالتے چلے جاتے ہیں۔ عقلی وجوہ کی جو نہر ہے وہ یہ ظاہر کرتی گئی ہے کہ یہ امر ایسا ہونا چاہیے اور اس کے مقابلہ پر الہامی شہادت کی نہر ہے۔ وہ بزرگ اور راستباز مخبر کی طرح یہ دلوں کو تسلی بخشتی گئی ہے کہ ۹۲ واقعہ میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور طرز فرقانی سے جو طالب حق کو حق کے معلوم کرنے میں آسانی ہے وہ بھی ظاہر ہے کیونکہ پڑھنے والا فرقان مجید کا ساتھ ساتھ دلائل عقلی کو بھی معلوم کرتا جاتا ہے۔ ایسے دلائل کہ جس سے زیادہ تر محکم دلائل کسی دفتر فلسفی میں مرقوم نہیں ۔ جیسا کہ ہم اس دعوی کو اسی کتاب کی فصل اول میں ثابت کریں گے اور پھر دوسری طرف الہام الہی سے شہادت واقعہ پا کر اعلیٰ درجہ یقین کو پہنچ جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس کو مفت ملتا ہے جو دوسرے شخص کو ساری عمر کی مغز خواری اور جان کنی سے بھی نہیں مل سکتا۔ پس ثابت ہوا کہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ شناخت اصول حقہ کا اور ان سب عقائد کا کہ جن کے علم یقینی پر ہماری نجات موقوف ہے۔ صرف قرآن شریف ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔ منہ ۔ ہے اور یہی کرنا م