براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 85
روحانی خزائن جلد 1 ۸۳ براہین احمدیہ حصہ دوم مورتوں اور دیوتوں کو اس کے کارخانہ میں دخیل اور اس کی سلطنت کا مدار المہام سمجھ رہا ہے کوئی اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں اور پوتے اور پوتیاں تراش رہا ہے اور کوئی خود اسی کو مچھ اور کچھ کا جنم دے رہا ہے۔ غرض ایک دوسرے سے بڑھ کر اس ذات کامل کو ایسا خیال کر رہے ہیں کہ گویا وہ نہایت ہی بدنصیب ہے کہ جس کمال تام کو اس کے لئے عقل چاہتی تھی وہ اس کو میسر نہ ہوا۔ اب اے بھائیو! خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میں نے ایسے ایسے باطل عقائد میں لوگوں کو مبتلا دیکھا اور اس درجہ کی گمراہی میں پایا کہ جس کو دیکھ کر جی پکھل آیا اور دل اور بدن کانپ اٹھا۔ تو میں نے ان کی رہنمائی کے لئے اس کتاب کا تالیف کرنا اپنے نفس پر ایک حق واجب اور دین لازم دیکھا جو بجز ادا کرنے کے ساقط نہ ہو گا۔ چنانچہ مسودہ اس کتاب کا خدا کے فضل اور کرم سے تھوڑے ہی دنوں میں ایک قلیل بلکہ اقل مدت میں جو عادت سے باہر تھی طیار ہو گیا اور حقیقت میں یہ کتاب طالبان حق کو ایک بشارت اور منکران دین اسلام پر ایک حجت الہی ہے کہ جس کا جواب قیامت تک ان سے میسر نہیں آ سکتا اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ ایک اشتہار بھی انعامی دس ہزار روپیہ کا شامل کیا گیا کہ تاہر یک منکر اور معاند پر جو اسلام کی حقیت سے انکاری ہے اتمام حجت ہو اور اپنے باطل خیال اور جھوٹے اعتقاد پر مغرور اور فریفتہ نہ رہے۔ بیا اے طلبگار صدق و صواب بخوان از سرخوض و فکر این کتاب گرت بر کتابم فتد یک نگاه بدانی که تا جنت این ست راه مگر شرط انصاف و حق پروریست که انصاف مفتاح دانشوریست دو چیز ست چوبان دنیا و دین دل روشن و دیده دوربین کیسے کو خرد دارد و نیز داد نخواہد مگر راه صدق و سداد نه پیچد سر از آنچه پاک ست و راست نتابد رخ از آنچه حق و بجاست بیند سخن راز حق پروری دگر در سخن کم کند داورے