براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 82
روحانی خزائن جلد 1 ۸۰ براہین احمدیہ حصہ دوم پہلے ایک بڑی تحقیقات کی گئی اور ہریک مذہب کی کتاب دیانت اور امانت اور خوض اور تدبر سے دیکھی گئی اور فرقانِ مجید اور ان کتابوں کا باہم مقابلہ بھی کیا گیا اور زبانی مباحثات بھی اکثر قوموں کے بزرگ علماء سے ہوتے رہے۔ غرض جہاں تک طاقت بشری ہے ہیں اور نہ کان سے سن سکتے ہیں اور نہ ہاتھ سے ٹول سکتے ہیں اور نہ اس دنیا کی تواریخ سے دریافت کر سکتے ہیں تو اُس وقت اُس کا ایک تیسرار فیق بنتا ہے کہ جس کا نام الہام اور وحی ہے اور قانون قدرت بھی یہی چاہتا ہے کہ جیسے پہلے دو مواضع میں عقل نا تمام کو دو رفیق میسر آگئے 691 میں تیسرے موضع میں بھی میسر آیا ہو۔ کیونکہ قوانین فطرتیہ میں اختلاف نہیں ہو سکتا بالخصوص جبکہ خدا نے دنیا کے علوم اور فنون میں کہ جن کے نقصان اور سہو اور خطا میں چنداں حرج بھی نہیں انسان کو ناقص رکھنا نہیں چاہا تو اس صورت میں خدا کی نسبت یہ بڑی بد گمانی ہوگی جو ایسا خیال کیا جاوے جو اُس نے ان امور کی معرفت تامہ کے بارے میں کہ جن پر کامل یقین رکھنا نجات اخروی کی شرط ہے اور جن کی نسبت شک رکھنے سے جہنم ابدی طیار ہے انسان کو ناقص رکھنا چاہا ہے اور اس کے علم اخروی کو صرف ایسے ایسے ناقص خیالات پر ختم کر دیا ہے کہ جن کی محض انکلوں پر ہی ساری بنیاد ہے اور ایسا ذریعہ اس کے لئے کوئی بھی مقرر نہیں کیا کہ جو شہادت واقعہ دے کر اس کے دل کو یہ تسلی اور تشفی بخشے کہ وہ اصول نجات کہ جن کا ہونا عقل بطور قیاس اور انکل کے تجویز کرتی ہے وہ حقیقت میں موجود ہی ہیں اور جس ضرورت کو عقل قائم کرتی ہے وہ فرضی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی ضرورت ہے اب جبکہ یہ ثابت ہوا کہ الہیات میں یقین کامل صرف الہام ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے اور انسان کو اپنی نجات کے لئے یقین کامل کی ضرورت ہے اور خود بغیر یقین کامل کے ایمان سلامت لے جانا مشکل ۔ تو نتیجہ ظاہر ہے کہ انسان کو الہام کی ضرورت ہے اور اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ اگر چہ ہر ایک الہام الہی یقین دلانے کے لئے ہی آیا تھا لیکن قرآن شریف نے اس اعلیٰ درجہ یقین کی بنیاد ڈالی کہ بس حد ہی کر دی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پہلے جتنے الہام خدا کی طرف سے نازل ہوئے