براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 81

روحانی خزائن جلد 1 ۷۹ براہین احمدیہ حصہ دوم باقی سب کتابوں کے اصول بگڑ گئے ہیں اور ایسی جعلی اور مصنوعی اور اس قدر طریقہ مستقیمه حکمت اور مجری طبعی سے دور جا پڑے ہیں کہ ان کے لکھنے سے بھی ہمیں شرم آتی ہے اور یہ قول ہمارا بلا تحقیق نہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کتاب کی تالیف سے امر دیگر ہے اور خود اس شے کا ثابت ہو جانا امر دیگر ۔ بہر حال عقل کے لئے ایک رفیق کی حاجت ہوئی کہ تا وہ رفیق عقل کے اس قیاسی اور ناقص قول کا کہ جو ہونا چاہیئے کے لفظ سے بولا جاتا ہے مشہودی اور کامل قول سے جو ہے کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے جبر نقصان کرے اور واقعات سے جیسا کہ وہ نفس الامر میں واقعہ ہمیں آگاہی بخشے سوخدا نے جو بڑا ہی رحیم اور کریم ہے اور انسان کو مراتب قصوی یقین تک پہنچانا چاہتا ہے اس حاجت کو پوری کیا ہے اور عقل کے لئے کئی رفیق مقرر کر کے راستہ یقین کامل کا اس پر کھول دیا ہے تا نفس انسان کا کہ جس کی ساری کی سعادت اور نجات یقین کامل پر موقوف ہے اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہے ۔ اور ہونا چاہیئے کے نازک اور پر خطر پل سے کہ عقل نے شکوک اور شبہات کے دریا پر باندھا ہے بہت جلد آگے عبور کر کے ہے کے قصر عالی میں جو دار الامن والاطمینان ہے داخل ہو جائے اور وہ رفیق عقل کے جو اس کے یار اور مددگار ہیں۔ ہر مقام اور موقعہ میں الگ الگ ہیں ۔ لیکن از روئے حصر عقلی کے تین سے زیادہ نہیں اور ان تینوں کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ اگر حکم عقل کا دنیا کے محسوسات اور مشہودات سے متعلق ہو جو ہر روز دیکھے جاتے یا سنے جاتے یا سونگھے جاتے یا ٹولے جاتے ہیں تو اس وقت رفیق اس کا جو اس کے حکم کو یقین کامل تک پہنچاوے مشاہدہ صحیحہ ہے کہ جس کا نام تجربہ ہے ۔ اور اگر حکم عقل کا ان حوادث اور واقعات سے متعلق ہو جو مختلف از منہ اور امکنہ میں صدور پاتے رہے ہیں یا صدور پاتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک اور رفیق بنتا ہے کہ جس کا نام تو اریخ اور اخبار اور خطوط اور مراسلات ہے اور وہ بھی تجربہ کی طرح عقل کی دود آمیز روشنی کو ایسا مصفا کر دیتا ہے کہ پھر اس میں شک کرنا ایک حمق اور جنون اور سودا ہوتا ہے اور اگر حکم عقل کا ان واقعات سے متعلق ہو جو ماوراء المحسوسات ہیں جن کو ہم نہ آنکھ سے دیکھ سکتے