برکاتُ الدُّعا — Page 31
روحانی خزائن جلد ۶ بركات الدعاء کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور کسی جگہ پانی کے سرد ہونے کی طرف ایما فرمایا ہے۔ اور کبھی کہا ہے کہ سورج مشرق سے مغرب کی طرف جاتا ہے تو یہ بیانات جو حالات موجودہ کے اظہار کے لئے ہیں سید صاحب کی نظر میں بطور وعدہ کے ہیں جن میں تغییر تبدیل ممکن نہیں اگر ۲۵۶ استخراج دلائل کا یہی طریق ہے تو سید صاحب پر بڑی مشکل پڑے گی اور اُن کو ماننا پڑے گا که تمام بیانات قرآن کریم کے مواعید میں داخل ہیں ۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے جو حضرت زکریا کو بشارت دے کر فرمایا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِخُلم تو بموجب قاعدہ سید صاحب کے چاہیے تھا کہ حضرت کی ہمیشہ غلام یعنی لڑکے ہی رہتے کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت بیٹی کو غلام کر کے پکارا ہے۔ اور یہ وعدہ ہو گیا ۔ ایسی ہی اور بیسوں مثالیں ہیں سب کو بیان کرنا صرف وقت ضائع کرنا ہے ۔ اگر سید صاحب کی نظر میں واقعات موجودہ کے بیان کرنے سے آئندہ کے لئے اور ہمیشہ کے لئے کوئی وعدہ لازم آجاتا ہے تو ان سے ڈرنا چاہیے کہ ایسا ہی وہ بات بات میں انسانوں پر الزام لگا ئیں گے ۔ اور ایک موجودہ واقعہ کے بیان کرنے کو وہ ایک دائمی وعدہ سمجھ لیں گے ۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ سید صاحب اپنے آخری دن (۲۲) کو یاد کر کے چند ماہ اس عاجز کی صحبت میں رہیں ۔ اور چونکہ میں مامور ہوں اور مبشر ہوں اس لئے میں وعدہ کرتا ہوں کہ سید صاحب کے اطمینان کے لئے توجہ کروں گا اور اُمید رکھتا ہوں کہ خدا تعالی کوئی ایسا نشان دکھلائے کہ سید صاحب کے مجوزہ قانون قدرت بقيه حاشيه: مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ " کے مصداق ہیں۔ اور چونکہ انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے اس لئے تمام عالم اس کی طرف وقتا فوقتا کھینچا جاتا ہے وہ روحانی عالم کا ایک عنکبوت ہوتا ہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اور خوارق کا یہی سر ہے۔ بر کاروبار ہستی اثری ست عارفان را زجهان چه دید آن کس که ندید این جهان را منه مریم : ۲۸ الانعام: ۹۲