برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 30

روحانی خزائن جلد ۶ بركات الدعاء ان چیزوں کی خاصیت میں کبھی تصرف نہ کرے !!! اس لزوم پر دلیل کیا ہے ۔ اور وجہ کیا اور خدا تعالیٰ کو اس بے وجہ التزام کی جو اس کی خدائی کو بھی داغ لگاتا ہے ضرورت کیا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس رسالہ میں سید صاحب بھی اس کمزور خیال کے بودے پن کو سمجھ گئے ہیں اس لئے اپنے رکیک قول کے قائم رکھنے کے لئے انہوں نے ایک اور رکیک عذر پیش کیا ہے ۔ اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی جگہ آگ کے گرم ہونے بقیه حاشیه : اس قسم کے ظہور میں آتے ہیں کہ پانی ان کو ڈبو نہیں سکتا اور آگ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اس میں بھی دراصل یہی بھید ہے کہ حکیم مطلق جس کے بے انتہا اسرار پر انسان حاوی نہیں ہو سکتا اپنے دوستوں اور مقربوں کی توجہ کے وقت بھی یہ کرشمہ قدرت دکھلاتا ہے کہ وہ توجہ عالم میں تصرف کرتی ہے اور جن ایسے مختفی اسباب کے جمع ہونے سے مثلاً آگ کی حرارت اپنے اثر سے رک سکتی ہے خواہ وہ اسباب اجرام علومی کی تا شیریں ہوں یا خود مثلاً آگ کی کوئی مخفی خاصیت یا اپنے بدن کی ہی کوئی مخفی خاصیت یا ان تمام خاصیتوں کا مجموعہ ہو وہ اسباب اس توجہ اور اس دعا سے حرکت میں آتی ہیں۔ تب ایک امر خارق عادت ظاہر ہوتا ہے مگر اس سے حقائق اشیاء کا اعتبار نہیں اٹھتا اور نہ علوم ضائع ہوتے ہیں بلکہ یہ تو علوم الہیہ میں سے خود ایک علم ہے اور یہ اپنے مقام پر ہے اور مثلاً آگ کا محرق بالخاصیت ہونا اپنے مقام پر بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ روحانی مواد ہیں جو آگ پر غالب آ کر اپنا اثر دکھاتے ہیں اور اپنے وقت اور محل سے خاص ہیں ۔ اس دقیقہ کو دنیا کی عقل (۲۷) نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کامل خدا تعالی کی روح کا جلوہ گاہ ہوتا ہے اور جب کبھی کامل انسان پر ایک ایسا وقت آجاتا ہے کہ وہ اس جلوہ کا عین وقت ہوتا ہے تو اس وقت ہر یک چیز اس سے ایسی ڈرتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سے ۔ اس وقت اس کو درندہ کے آگے ڈال دو، آگ میں ڈال دو وہ اس سے کچھ بھی نقصان نہیں اٹھائے گا کیونکہ اس وقت خدا تعالی کی روح اس پر ہوتی ہے اور ہر یک چیز کا عہد ہے کہ اس سے ڈرے۔ یہ معرفت کا ایک اخیری بھید ہے جو بغیر صحبت کا ملین سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ چونکہ یہ نہایت دقیق اور پھر نہایت درجہ نادر الوقوع ہے اس لئے ہر ایک فہم اس فلاسفی سے آگا ہ نہیں مگر یا درکھو کہ ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کی آواز سنتی ہے ہر یک چیز پر خدا تعالیٰ کا تصرف ہے اور ہر یک چیز کی تمام ڈوریاں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اس کی حکمت ایک بے انتہا حکمت ہے جو ہر یک ذرہ کی جڑ تک پہنچی ہوئی ہے اور ہر ایک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں۔ جو شخص اس بات پر ایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو