برکاتُ الدُّعا — Page 32
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲ بركات الدعاء کو ایک دم میں خاک میں ملا دیوے اور اس قسم کے کام اب تک بہت ظہور میں آئے ہیں کہ جو سید صاحب کی نظر میں قانون قدرت کے مخالف ہیں ۔ مگر اُن کا بیان کرنا بے فائدہ ہے کہ سید صاحب اس کو ایک قصہ سمجھیں گے۔ سید صاحب وحی کولایت کی ایسی پیشگوئیوں سے بھی تو منکر ہیں جو بذریعہ الہام اولیاء اللہ کو معلوم ہوتے ہیں۔ اور اُن کی نظر میں وہ ایسی ہی خلاف ۲۷ قانون قدرت ہیں جیسا کہ آگ کا اپنی خاصیت احراق کو چھوڑ دینا۔ ایسا ہی دعا کی ذاتی تاثیرات بھی جن کے ذریعہ سے وہ مطلب حاصل ہو جاتا ہے۔ جس کے لئے دعا کی گئی سید صاحب کی نظر میں خلاف قانون قدرت ہیں۔ سو اگر سید صاحب میرے پاس آ نہیں سکتے تو ان دونوں باتوں میں ہی وعدہ قبول حق کر کے مجھ کو اجازت دیں کہ اُن کی نسبت جناب الہی میں توجہ کر کے جو کچھ ظاہر ہو وہ شائع کروں اس سے عام لوگوں کو فائدہ ہو جائے گا۔ اگر سید صاحب کی رائے در حقیقت درست ہے تو میں اپنے مطلب میں کامیاب نہیں ہوں گا ۔ ورنہ عقلمند لوگ سید صاحب کے خراب عقیدوں سے نجات پا کر پھر اپنے عظیم الشان خدا تعالی کو پہچان لیں گے اور محبت سے (۲۸) اُس کی طرف رجوع کریں گے۔ اور دعا کے وقت اُس کی رحمتوں سے نا اُمید نہیں ہوں گے اور ہاتھ اُٹھانے کے وقت لذت اٹھائیں گے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا فائدہ بھی تو یہی ہے کہ ہماری دعائیں سنے اور آپ اپنے وجود سے ہمیں خبر دے نہ کہ ہم ہزار ہزار تکلیف سے ایک بت کی طرح ایک فرضی خدا دل میں قائم کریں جس کی ہم آواز نہیں سن سکتے ۔ اور اُس کی نمایاں قدرت کا کوئی جلوہ نہیں دیکھ سکتے ۔ یقیناً سمجھو کہ وہ قادر خدا موجود ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ وما غلت ايديه بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء ويفعل مايريد و هو على كل شيء قدير واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين -