برکاتُ الدُّعا — Page 22
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲ بركات الدعاء اعتقاد رکھا جائے کہ اسرار نبوت کو اب صرف بطور ایک گذشتہ قصہ کے تسلیم کرنا چاہیے جن کا وجود ہماری نظر کے سامنے نہیں ہے اور نہ ہونا ممکن ہے اور نہ ان کا کوئی نمونہ موجود ہے ۔ بات یوں نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اسلام زندہ مذہب نہ کہلا سکتا بلکہ اور مذہبوں کی طرح یہ ۱۸) بھی مردہ مذہب ہوتا اور اس صورت میں اعتقاد مسئلہ نبوت بھی صرف ایک قصہ ہوتا جس کا گذشتہ قرنوں کی طرف حوالہ دیا جاتا مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں چاہا کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ بقیه حاشیه : کہ وہ اس چشمہ کی مانند ہے کہ جو زمین سے جوش مارتا ہے بلکہ ہر جگہ یہی مثال پیش کی کہ وہ اُس بارش کی مانند ہے کہ جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ اور اگر سید صاحب لکھنے کے وقت کسی صاحب حال سے پوچھ لیتے کہ وحی اللہ کیا شے ہے اور کیونکر نازل ہوتی ہے تو تب بھی اس لغزش سے بچ جاتے ۔ اس ٹھو کر سے سید صاحب نے ایک جماعت کثیرہ مسلمان کو تباہ کر دیا اور قریب قریب الحاد اور دہریت کے پہنچادیا اور وحی نبوت کی عزت کو کھو کر اس فطرتی ملکہ تک محدود کر دیا جس میں کافراور بے ایمان بھی شریک ہیں۔ اس وقت میں محض اللہ اپنی ذاتی شہادت سید صاحب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں شاید خدا تعالے اُن پر فضل کرے۔ سوائے عزیز سید ! مجھے اس جل شانہ کی قسم ہے کہ یہ بات واقعی صحیح ہے کہ وحی آسمان سے دل پر ایسی گرتی ہے جیسے کہ آفتاب کی شعاع دیوار پر ۔ میں ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب مکالمہ الہیہ کا وقت آتا ہے تو اول یک دفعہ مجھ پر ایک ربودگی طاری ہوتی ہے تب میں ایک تبدیل یافتہ چیز کی مانند ہو جاتا ہوں اور میری حس اور میرا ادراک اور ہوش گو بگفتن باقی ہوتا ہے مگر اُس وقت میں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقت نے میرے تمام وجود کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے اور اُس وقت احساس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اُس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میرا نہیں بلکہ اُس کا ہے جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو اُس وقت سب سے پہلے خدا تعالی دل کے ان خیالات کو میری نظر کے سامنے پیش کرتا ہے جن پر اپنے کلام کی شعاع ڈالنا اس کو منظور ہوتا ہے تب ایک عجیب کیفیت سے وہ خیالات یکے بعد دیگرے نظر کے سامنے آتے ہیں اور ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک خیال مثلاً زید کی نسبت دل میں آیا کہ وہ فلاں مرض سے صحت یاب ہوگا یا نہ ہوگا تو جھٹ اُس پر ایک ٹکڑا کلام الہی کا ایک شعاع کی طرح کرتا ہے اور بسا اوقات اُس کے گرنے کے ساتھ تمام بدن ہل جاتا ہے پھر وہ مقدمہ طے ہو کر دوسرا خیال سامنے آتا ہے ادھر وہ خیال نظر کے سامنے کھڑا ہوا اور ادھر ساتھ ہی ایک ٹکڑا الہام کا اُس پر گرا جیسا کہ ایک تیرانداز ہر یک شکار کے نکلنے پر تیر مارتا جاتا ہے اور عین اس وقت میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ خیالات کا ہمارے ملکہ فطرت سے پیدا ہوتا ہے اور کلام جو اُس پر گرتا ہے وہ اوپر سے نازل ہوتا ہے