برکاتُ الدُّعا — Page 21
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱ بركات الدعاء اس اُمت کے لئے کھلی ہے ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے اور ایک شخص جو دنیا کا کیڑا اور دنیا کے جاہ وجلال اور ننگ و ناموس میں مبتلا ہے وہی وارث علم نبوت ہو کیونکہ خدا تعالیٰ وعدہ کر چکا ہے کہ بجر مظہرین کے علم نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا بلکہ یہ تو اس پاک علم سے بازی کرنا ہے کہ ہر ایک شخص با وجود اپنی آلودہ حالت کے وارث النبی ہونے کا دعوئی کرے اور یہ بھی ایک سخت جہالت ہے کہ ان وارثوں کے وجود سے انکار کیا جائے اور یہ بقیہ حاشیہ۔ اس پر شہادت دے رہی ہے ۔ یہ بات تو ہم دوبارہ یاد دلا دیتے ہیں کہ کو کسی قسم کا القا ہو الفاظ ہمیشہ ساتھ ہوں گے مثلاً ایک شاعر جو ایک مصرعہ کے لئے دوسرا مصرعہ تلاش کر رہا ہے تو جب اس کے ذہن پر منجانب اللہ کوئی القاء ہو گا تو الفاظ کے ساتھ ہی ہو گا۔ اب جبکہ یہ بات پختہ طور پر فیصلہ پاگئی کہ حکماء اور عرفاء اور شعراء کو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی القاء ہوتا ہے اور وہ بھی الہام متلو ہی ہوتا ہے اور ان میں سے راستبازوں کو راستی کا اور بدوں کو بدی کا ایک ملکہ عطا کیا جاتا ہے اور مناسب حال اس ملکہ کے وقتا فوقتا ان کو الہام ہوتا رہتا ہے مثلاً جس نے ریل ایجاد کی اس کو بھی عرب کے القاء ہی ہو اتھا اور جو تار برقی کا موجد گزرا ہے وہ بھی ان معنوں کر کے ملہم ہی تھا تو وہی اعتراض جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں سید صاحب پر وارد ہو گا۔ اگر سید صاحب یہ جواب دیں کہ در حقیقت نفس القا میں تو انبیاء اور حکماء بلکہ کافر اور مومن برابر ہیں مگر فرق یہ ہے کہ انبیاء کا القاء ہمیشہ صحیح ہوتا ہے تو ایسے جواب میں سید صاحب کو اس بات کا قائل ہونا پڑے گا کہ وحی نبوت کفار کے الہام سے کوئی ذاتی امتیاز نہیں رکھتی صرف یہ زائد امر ہے کہ انبیاء کی وحی غلطی سے پاک ہوتی ہے اور ارسطو اور افلاطون وغیرہ حکماء کی وحی غلطی سے پاک نہیں تھی لیکن یہ دعوی بے دلیل ہے بلکہ سراسر تحکم ہے کیونکہ اس صورت میں ہمیں مانا پڑتا ہے کہ وہ حصہ کثیر حکماء کے مواعظ اور نصائح اور اخلاقی باتوں کا جو غلطیوں سے پاک اور قرآن کے موافق ہے اُس کو بلا شبہ کلام الہی سمجھیں اور فرقان حمید کے برابر قرار دے دیں اور اس کے وحی متلو ہونے پر ایمان لاویں اور دوسرا حصہ جس میں غلطی ہو اس کو اُسی طرح اجتہادی غلطیوں کی مد میں داخل کر دیں جیسا کہ انبیاء سے بھی کبھی اجتہادی غلطی ہو جاتی ہے اور پھر اس اصول کے لحاظ سے ایسے حکماء بلکہ کفار کو بھی نبی سمجھ لیں۔ اب ظاہر ہے کہ درحقیقت یہ ایسا خیال ہے کہ قریب ہے کہ سید صاحب کا ایمان اس سے ضائع ہو جائے بلکہ شاید کسی موقعہ پر نیوتن وغیرہ حکماء کی وحی کو قرآن کی وحی سے اعلی سمجھنے لگیں ۔ افسوس کہ اگر سید صاحب قرآن کے معنے سمجھنے کے لئے قرآن کو ہی معیار ٹھہراتے تو اس ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے بچ جاتے۔ قرآن نے کسی جگہ اپنی وحی کی یہ مثال پیش نہیں کی