برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xli of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xli

شہادت القرآن ایک صاحب عطا محمد نام نے جو امرتسر کے ضلع کی کچہری میں اہلمد تھے اور وفات مسیحؑ کے قائل تھے لیکن کسی مسیح کے اِس امت میں آنے کے منکر تھے اگست ۱۸۹۳ء میں اپنے مطبوعہ خط کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیا کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا انتظار کرنا ہم کو واجب و لازم ہے۔مسیح موعود کے آنے کی پیشگوئی گو احادیث میں موجود ہے مگر احادیث کا بیان میرے نزدیک پایۂ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ احادیث زمانۂ دراز کے بعد جمع کی گئی ہے اور اکثر مجموعہ احاد ہے۔جو مفید یقین نہیں۔چونکہ سوال اہم تھا اس لئے حضورؑ نے اس سوال کے جواب میں سائل کی حالت کو مدّنظر رکھتے ہوئے رسالہ ’’شہادت القرآن‘‘ لکھا اور مندرجہ ذیل تین امور تنقیح طلب قائم کر کے مفصل جواب دیا۔اول یہ کہ مسیح موعود کے آنے کی خبر جو حدیثوں میں پائی جاتی ہے کیا یہ اس وجہ سے ناقابلِ اعتبار ہے کہ حدیثوں کا بیان مرتبہ یقین سے دُور و مہجور ہے۔دوسرے یہ کہ کیا قرآن کریم میں اس پیشگوئی کے بارے میں کچھ ذکر ہے یا نہیں۔تیسرے یہ کہ اگر یہ پیشگوئی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اِس کا مصداق یہی عاجز ہے۔(شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۲۹۷) اِن تینوں تنقیحات کو بدلائلِ بیّنہ واضح کر کے آخر میں لکھا:۔’’اور اگراب بھی یہ تمام ثبوت میاں عطا محمد صاحب کے لئے کافی نہ ہوں تو پھر طریق سہل یہ ہے کہ اس تمام رسالہ کو غور سے پڑھنے کے بعد بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو اطلاع دیں کہ میری تسلّی ان امور سے نہیں ہوئی اورمیں ابھی تک افترا سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو میں انشاء اﷲ القدیر اُن کے بارہ میں توجہ کروں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے مقابل پر مجھے مغلوب نہیں کرے گا کیونکہ میں اس کی طرف سے ہوں اور اُس کے دین کی تجدید کے لئے اُس کے حکم سے آیا ہوں لیکن چاہئے کہ وہ اپنے اشتہار میں مجھے عام اجازت دیں۔کہ جس طور سے میں اُن کے حق میں الہام پاؤں اُس کو شائع کرا دوں۔‘‘ * (شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد۶صفحہ۳۷۶)