برکاتُ الدُّعا — Page xl
میاں نبی بخش رفوگر و سوداگر پشمینہ امرتسر اور ہمارے اُستاد ماہر فقہ و حدیث عالم باعمل حضرت قاضی امیر حسینؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔قاضی صاحب جو اُن دنوں مدرسہ اسلامیہ امرتسر میں مدرس تھے اُن کے احمدی ہونے سے مولویوں کے گھر میں شوربرپا ہو گیا۔۱ اِسی طرح کرنل الطاف علی خان صاحب رئیس کپورتھلہ جو عیسائیت اختیار کر چکے تھے۔اور بوقت مباحثہ عیسائیوں کی طرف بیٹھے تھے اسلام لے آئے ۲ اور عیسائی پادریوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ اُن کا مدّمقابل حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کا ایک بے نظیر پہلوان ہے اور جو علم کلام ان کے مذہب کی تردید اور اسلام کی تائید میں اس نے پیدا کیا ہے وہ ایک ایسا حربہ ہے جس کے وار سے کسرِ صلیب کا ہونا ایک یقینی امر ہے۔پس اس عظیم الشان مباحثہ میں نامور پادریوں کی شکست اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس رنگ میں اسلام کو زندہ مذہب اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو زندہ نبی اور قرآن مجید کو زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا۔وہ ایسے امورنہ تھے جن سے عیسائی دنیا متاثر نہ ہوتی۔چنانچہ انگلستان جس کی کئی مشنری سوسائیٹیاں پنجاب اور ہندوستان میں کام کر رہی تھیں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔چنانچہ ۱۸۹۴ء میں دنیا بھر کے پادریوں کی جو عظیم الشان کانفرنس لنڈن میں منعقد ہوئی اس کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے لارڈ بشپ آف گلوسٹر ریورنڈ چارلس جان ایلی کوٹ نے کہا:۔’’اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں۔مجھے اُن لوگوں نے جو صاحبِ تجربہ ہیں بتایا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آ رہا ہے اور اس جزیرے میں بھی کہیں کہیں اس کے آثار نظر آ رہے ہیں۔۔۔یہ اُن بدعات کا سخت مخالف ہے جن کی بنا پر محمد (صلعم) کا مذہب ہماری نگاہ میں قابلِ نفرین قرار پاتا ہے۔اس نئے اسلام کی وجہ سے محمد (صلعم) کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی رہی جارہی ہے۔یہ نئے تغیرات بہ آسانی شناخت کئے جا سکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارحانہ حیثیت کا بھی حامل ہے۔افسوس ہے تو اِس بات کا کہ ہم سے بعض ذہن اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔‘‘ ۳ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعویٰ پر ابھی چار سال ہی گذرے تھے کہ پادریوں کے دلوں پر آپ کا رعب چھا گیا۔اور مسیحی دنیا کو محسوس ہو گیا کہ اسلام کے غلبہ اور عیسائیت کی شکست کا وقت آ پہنچا۔