برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxviii of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxxviii

نشانی ایمانداری کی آپ میں باقی رہ جاوے ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف تو اہل حق کے ساتھ بحیثیت عیسائی ہونے کے مباحثہ کریں اور جب سچّے عیسائی کے نشان مانگے جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں اس بیان سے تو آپ اپنے پر ایک اقبالی ڈگری کراتے ہیں کہ آپ کا مذہب اس وقت زندہ مذہب نہیں ہے۔لیکن ہم جس طرح پر خدا تعالیٰ نے ہمارے سچّے ایماندار ہونے کے نشان ٹھہرائے ہیں۔اس التزام سے نشان دکھلانے کو تیار ہیں اگر نشان نہ دکھلا سکیں تو جو سزا چاہیں دے دیں اور جس طرح کی چُھری چاہیں ہمارے گلے میں پھیر دیں۔‘‘ (جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد۶صفحہ۱۵۳۔۱۵۵) اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خود حضرت مسیحؑ بھی اقتداری نشان دکھلانے سے عاجز رہے جیسا کہ مرقس ۱۱۔۸۱۲ میں لکھا ہے : ’’تب فریسی نکلے اور اس سے حجت کر کے یعنی جس طرح اب اس وقت مجھ سے حجت کی گئی۔اس کے امتحان کے لئے آسمان سے کوئی نشان چاہا اُس نے اپنے دل سے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا۔۔۔پھر اس سے بھی عجب طرح کا ایک اَور مقام دیکھئے کہ جب مسیحؑ صلیب پر کھینچے گئے تو تب یہودیوں نے کہاکہ اس نے اوروں کو بچایا پر آپ کو نہیں بچا سکتا اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اَب صلیب سے اُتر آوے تو ہم اس پر ایمان لاویں گے۔۔۔لیکن حضرت مسیح اُتر نہیں سکے۔‘‘ (جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد۶صفحہ۱۵۵۔۱۵۶) نیز فرمایا۔برعایت شرائط بحث کے ’’میرے مخاطب اس بارہ میں ڈپٹی عبداﷲ آتھم صاحب ہیں۔صاحب موصوف کو چاہئے کہ انجیل شریف کی علامات قرار دادہ کے موافق سچا ایماندار ہونے کی