برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxvii of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxxvii

گا۔اب گستاخی معاف اگر آپ سچے ایمان دار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس وقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں۔آپ ان پر ہاتھ رکھ دیں اگر وہ چنگے ہو گئے تو ہم قبول کر لیں گے کہ بے شک آپ سچے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جا تو وہ چلا جاتا مگر خیر مَیں اس وقت پہاڑ کی نقلِ مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ وہ ہماری اس جگہ سے دُور ہیں لیکن یہ تو بہت اچھی تقریب ہو گئی کہ بیمار تو آپ نے ہی پیش کر دیئے اب آپ اِن پر ہاتھ رکھو اور چنگا کر کے دکھلاؤ۔ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابربھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہے گا۔مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائد نہیں ہو سکتا کیونکہ اﷲ جلّ شانہٗ نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ بالخصوصیت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو اچھے ہو جائیں گے۔ہاں یہ فرمایا ہے کہ مَیں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دعائیں قبول کروں گا اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دُعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحتِ الٰہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دی جائے گی یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو یہ اقتدار دیا جائے گا کہ تم اقتداری طور پر جو چاہو وہی کرگذرو گے۔مگر حضرت مسیح کا تو یہ حکم معلوم ہوتاہے کہ وہ بیماروں وغیرہ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیسا کہ متی ۱۰ باب ۱ میں لکھا ہے۔۔۔اب یہ آپ کا فرض اور آپ کی ایمانداری کا ضرور نشان ہو گیا کہ آپ ان بیماروں کو چنگا کر کے دکھلاویں یا یہ اقرار کریں کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ہم میں ایمان نہیں۔۔۔اور آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اب بھی حضرت مسیح زندہ حی و قیوم قادرِ مطلق عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے جو چاہو وہی دے سکتا ہے۔پس آپ حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ اِن تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھا کر دیویں تا