برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxix of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxxix

نشانیاں اپنے وجود میں ثابت کریں اور اس طرف میرے پر لازم ہو گا کہ مَیں سچا ایمان دار ہونے کی نشانیاں قرآن کریم کے رُو سے اپنے وجود میں ثابت کروں مگر اس جگہ یاد رہے کہ قرآن کریم ہمیں اقتدار نہیں بخشتا بلکہ ایسے کلمہ سے ہمارے بدن پر لرزہ آتا ہے ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کا نشان دکھلائے گا وُہی خدا ہے سوا اس کے اَور کوئی خدا نہیں ہاں یہ ہماری طرف سے اس بات کا عہد پختہ ہے جیسا کہ اﷲ جلّ شانہٗنے میرے پر ظاہر کر دیا ہے کہ ضرور مقابلہ کے وقت میں فتح پاؤں گا مگر یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور سے نشان دکھلائے گا اصل مدعا تو یہ ہے کہ نشان ایسا ہو کہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو۔‘‘ (جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد۶صفحہ ۱۵۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جواب لکھوانا تھا کہ پادریوں نے ان پیش کردہ بیماروں کو مجلس سے ایسے طور پر غائب کر دیا کہ گویا انہیں زمین نگل گئی۔اور پادریوں کی یہ ساحرانہ کارروائی بالکل اکارت اور بے فائدہ گئی۔اور ہمیشہ کے لئے اُن کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوئی اور خدا تعالیٰ کے جری پہلوان کاسرِ صلیب کی نمایاں فتح کا موجب بنی۔نشان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اﷲ تعالیٰ سے نشان دکھانے کے لئے تضرع و ابتہال سے کی ہوئی دُعائیں آخرکار پایۂ قبولیت کو پہنچیں اور اﷲ تعالیٰ نے فریق مخالف سے متعلق آپ کو اس نشان سے اطلاع دی جو اس جلد کے صفحہ ۲۹۱۔۲۹۲ پر درج ہے۔او ر جس کی تفصیل ہم کتاب انجامِ آتھم کی اشاعت کے وقت لکھیں گے۔الغرض یہ جنگ مقدس جو دجالی گروہ اور مسیح موعودؑ کے درمیان ہوئی اس نے صلیبی مذہب کو پاش پاش کر دیا اور دلائل و براہین کی رو سے دجال ہمیشہ کے لئے قتل کر دیا گیا۔اِس مباحثہ کے نتائج اِس مباحثہ کے خوشگوار نتائج ایامِ مباحثہ میں ہی ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔چنانچہ ایّام مباحثہ میں