برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvi of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxvi

نے مسیحیان جنڈیالہ کی طرف سے لکھا کہ ’’آپ خواہ خود یا اپنے ہم مذہبوں سے مصلحت کر کے ایک وقت مقرر کریں اور جس کسی بزرگ پر آپ کی تسلّی ہو اُسے طلب کریں اور ہم بھی وقت معیّن پر محفل شریف میں کسی اپنے کو پیش کریں گے کہ جلسہ اور فیصلہ امورات مذکورہ بالا کا بخوبی ہو جاوے۔‘‘ اور لکھا ’’کہ اگر صاحبانِ اہل اسلام ایسے مباحثہ میں شریک نہ ہونا چاہیں تو آئندہ کو اپنے اسپِ کلام کو میدان گفتگو میں جولانی نہ دیں اور وقتِ منادی یا دیگر موقعوں پر حجّت بے بنیاد ولاحاصل سے باز آ کر خاموشی اختیار کریں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۶۰) یہ خط میاں محمد بخش صاحب کو ۱۱؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو ملا جو انہوں نے مع اپنے خط کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیج دیا۔اور اپنے خط میں حضور سے یہ التماس کی کہ ’’اہل اسلام جنڈیالہ اکثر کمزور اور مسکین ہیں اس لئے خدمت شریف عالی میں ملتمس ہوں کہ آنجناب ﷲ اہل اسلام جنڈیالہ کو امداد فرماؤ۔ورنہ اہلِ اسلام پر دھبّہ آ جائے گا۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۵۹) اِس خط کے ملنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور میاں محمد بخش صاحب کو اس کا مناسب جواب بھجوانے کے علاوہ اپنے ایک خط ۱۳ ؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو براہِ راست مسیحیان جنڈیالہ کے نام ڈاکٹر کلارک امرتسر کی معرفت بھیج دیا۔جس میں آپ نے ان کی دعوت مباحثہ مندرجہ مکتوب بنام میاں محمد بخش صاحب کا ذکر کرکے لکھا:۔’’کہ جنڈیالہ کے مسلمانوں کا ہم سے کچھ زیادہ حق نہیں بلکہ جس حالت میں خداوند کریم اور رحیم نے اس عاجز کو اِنھیں کاموں کے لئے بھیجا ہے تو ایک سخت گناہ ہو گا کہ ایسے موقعہ پر خاموش رہوں۔اس لئے میں آپ لوگوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اس کام کے لئے میں ہی حاضر ہوں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۱)