برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxvii

اور تحریر فرمایا کہ ’’یہ بحث زندہ مذہب یا مردہ مذہب کی تنقیح کے بارہ میں ہو گی اور دیکھا جاوے گا کہ جن روحانی علامات کا مذہب اور کتاب نے دعویٰ کیا ہے وہ اب بھی اس میں پائی جاتی ہیں کہ نہیں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۳،۶۴) اور اس امر کا ثبوت اِس طرح پیش کیا جائے گا۔’’اہلِ اسلام کا کوئی فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو کامل مسلمان ہونے کے لئے قرآن کریم میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کرے۔اور اگر نہ کر سکے تو دروغ گو ہے نہ مسلمان۔اور ایسا ہی عیسائی صاحبوں میں سے ایک فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو انجیل شریف میں موجود ہیں اپنے نفس کو ثابت کر کے دکھلائے اور اگر وہ ثابت نہ کرسکے تو وُہ دروغ گو ہے نہ عیسائی‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۲) اس کے جواب میں ۱۸؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو عیسائیان جِنڈیالہ کی طرف سے ڈاکٹر کلارک نے لکھا:۔’’ہمارا دعویٰ نہ آپ سے پر جنڈیالہ کے محمدیوں سے ہے۔ہم آپ کی دعوت قبول کرنے میں قاصر ہیں۔اُن کی طرف ہم نے خط لکھا ہوا ہے۔اور تاحال جواب کے منتظر ہیں۔۔۔۔۔۔اگر وُہ آپ کو تسلیم کر کے اس جنگ مقدس کے لئے اپنی طرف سے پیش کریں تو ہمارا کچھ عذر نہیں بلکہ عین خوشی ہے۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۴) ۲۳؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو اِس خط کا جواب دیتے ہوئے پادری صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھا کہ میں اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب کر کے آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کے لئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرمائیں گے۔جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام تھا مجھ کو ملا اور مَیں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے تو میری روح اس وقت بول اٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا۔اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنا نہیں چاہتا۔میں دیکھتا