برکاتُ الدُّعا — Page xxv
قبل ازیں ۱۸۵۱ء میں ہندوستانی عیسائی صرف ۹۱۰۹۲ تھے اور ۱۸۸۱ء میں ان کی تعداد ۴۱۷۳۷۲ تھی۔جس زمانہ میں یہ مباحثہ ہوا اس وقت مسیحی مناد عیسائی مشنری یوروپین اور ہندوستانی پنجاب کے بیسیوں مقامات پر لوگوں کو عیسائیت کی طرف دعوت دے رہے تھے اور دجال پورے زور سے دین اسلام کی تباہی کے لئے ہمہ تن مصروف تھا۔اور علمائے اسلام خواب خرگوش میں تھے۔سب سے پہلے چرچ مشنری سوسائٹی نے ہندوستان میں ۱۷۹۹ء میں تبلیغی کام شروع کیا تھا۔لیکن اس وقت بہت سی مشنری سوسائٹیاں کام کر رہی تھیں جن کے ہیڈ کوارٹرز انگلستان جرمنی اور امریکہ وغیرہ ممالک تھے۔۱۹۰۱ء میں ان مشنری سوسائٹیوں کی تعداد ۳۷ تھی اور ایک بہت بڑی تعداد مشنریوں کی ایسی بھی تھی جو ان سوسائٹیوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔وسط ایشیا میں عیسائیت کے مشنری کام کے لئے وہ پنجاب کو ایک قدرتی بیس (Base) سمجھتے ۱ تھے۔اور پنجاب کے تیرہ مشہور شہروں میں ان کے بڑے بڑے مشن قائم تھے۔اِن میں سے ایک مشن امرتسر میں قائم تھا۔یہ مشن چرچ مشنری سوسائٹی نے ۱۸۵۲ء میں قائم کیا تھا۔اور جنڈیالہ ضلع امرتسر میں عیسائی مشن کی بنیاد ۱۸۵۴ء میں رکھی گئی تھی۔لیکن جب ہنری مارٹن کلارک۲ ایم۔ڈی۔سی۔ایم (ایڈنبرا) ایم آر اے ایس۔سی ایم ایس ضلع امرتسر کے میڈیکل مشنری انچارج تھے تو انہوں نے ۱۸۸۲ء میں امرتسر میڈیکل مشن کی ایک شاخ جنڈیالہ میں بھی جاری کر دی جو عیسائیت کے فروغ کا نیا دروازہ ثابت ہوئی۔عیسائی مناد جابجا وعظ کرنے لگے۔جنڈیالہ کے مسلمانوں میں سے ایک میاں محمد بخش پاندہ مکتب دیسی تھے وہ باوجود معمولی تعلیم رکھنے کے اُن کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بعض دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی عیسائی منادوں پر سوالات کرنے سکھا دیئے۔اب جنڈیالہ کے مسلمانوں اور مسیحی منادوں میں گفتگوئیں شروع ہو گئیں۔آخر جنڈیالہ کے عیسائیوں نے ڈاکٹر کلارک سے صورت حالات کا ذکر کیا تو انہوں نے مسیحیان جنڈیالہ کی طرف سے میاں محمد بخش صاحب کو مخاطب کر کے مسلمانانِ جنڈیالہ کے نام ایک خط لکھا جو اس جلد کے صفحہ ۶۰ پر درج ہے اس میں ڈاکٹر کلارک ۱ دیکھو ’’دی مشنز‘‘ صفحہ ۱۷ ، ۲۴۵ مصنفہ ریورنڈ رابرٹ کلاک ۲ یاد رہے کہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلار ک ہی تھے جنہوں نے ۷؍اپریل ۱۸۸۵ء کو حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کی خدمت میں آٹھ سوالات بھیجے تھے جن کا جواب آپ نے ۱۸۸۸ء میں اپنی کتاب ’’فصل الخطاب‘‘ میں دیا اور ۱۸۸۹ء میں ریورنڈ ٹامس ہاول نے جبکہ وہ پنڈدادنخاں میں مشنری تھے جواب دینے کی کوشش کی۔اور ایک رسالہ ’’جواب اہل کتاب‘‘ لکھا جو اخترہند پریس امرتسر میں شائع ہوا۔شمس