برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxiv

جنگ مقدس ۱؂ کتاب ’’جنگ مقدس‘‘ اس عظیم الشان مباحثہ کی مکمل روئیداد کا نام ہے جو امرتسر میں اہل اسلام اور عیسائیوں کے مابین ۲۲؍مئی ۱۸۹۳ء سے لے کر ۵؍جون۱۸۹۳ء تک ہوا۔جس میں اہلِ اسلام کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور عیسائیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداﷲ آتھم ۲؂ مناظر تھے۔اسباب مباحثہ:۔روحانی خزائن کی جلد اوّل اور سوم میں ہم پنجاب اور ہندوستان کے عیسائی مشنریوں کی مساعی کا ذکر کر چکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ اس وقت مسیحیت کی تبلیغ عنفوان شباب پر تھی۔اور مختلف شہروں اور دیہات میں ان کے مشن قائم تھے۔اور ہندوستانی مسلمان اور دیگر اقوام کے لوگ پے در پے عیسائی ہو رہے تھے۔یہاں تک کہ یہ خیال کیا جانے لگا تھا کہ چند سالوں میں ہندوستان عیسائیت کی آغوش میں آ جائے گا۔چنانچہ ۱۸۸۸ء میں پنجاب کے لفٹنٹ گورنر چارلس ایچی سن نے بمقام شملہ مسیحی مبلغوں کی ایک میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔’’جس رفتار سے ہندوستان کی معمولی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے چار پانچ گُنا تیز رفتار سے عیسائیت اس ملک میں پھیل رہی ہے۔اور اس وقت ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔‘‘ (’’دی مشنز‘‘ مصنفہ ریورنڈ رابرٹ کلارک) ۱؂ ریورنڈ رابرٹ کلارک نے اپنی کتاب ’’دی مشنز آف دی سی۔ایم۔ایس اِن پنجاب اینڈ سندھ‘‘ مطبوعہ سی۔ایم۔ایس لنڈن ۱۹۰۴ء میں اس مباحثہ کو The great controversy۔یعنی ایک عظیم الشان مباحثہ قرار دیا ہے۔اور اس مباحثہ کو جنگ مقدس کا نام خود ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے دیا۔صفحہ ۴۶ و۶۴۔شمس ۲؂ عبداللہ آتھم قریباً ۱۸۳۸ء میں بمقام انبالہ پیدا ہوئے اور ۲۸؍مارچ ۱۸۵۳ء کو انہوں نے کراچی میں بپتسمہ لیا۔اور اسی موقعہ پر انہوں نے اپنے نام کے ساتھ آثم یعنی گنہگار کا لفظ لگایا۔پہلے انبالہ ‘ ترنتارن اور بٹالہ میں تحصیلدار رہے۔پھر سیالکوٹ۔انبالہ اور کرنال میں ای۔اے۔سی کے عہدہ پر رہے اور پھر ریٹائرڈ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی خدمات امرتسرمشن کو سپرد کر دیں اور اسلام کے خلاف چند کتب لکھیں۔شمس